Web
Analytics
مہاتیر محمد نے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کا مشورہ دیدیا، قرض کے حصول سے پاکستان کو کیانقصان ہوگا، انتباہ کردیا – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / مہاتیر محمد نے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کا مشورہ دیدیا، قرض کے حصول سے پاکستان کو کیانقصان ہوگا، انتباہ کردیا

مہاتیر محمد نے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کا مشورہ دیدیا، قرض کے حصول سے پاکستان کو کیانقصان ہوگا، انتباہ کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مہاتیر محمد نے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کا مشورہ دے دیا، وزیراعظم ملائیشیا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف یا ورلڈکپ سے قرضہ لینے سے معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں، پاکستان متبادل حل تلاش کرے۔ تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد پاکستان کا 3 روزہ دورہ کرکے اپنے وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔مہاتیر محمد نے ہفتے کے روز یوم پاکستان کی پریڈ میں شرکت کی، جس کے بعد وہ اپنے ملک واپس روانہ ہوگئے۔ ملائیشیا روانگی سے قبل مہاتیر محمد نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ طویل وقت گزارا اور انہیں کئی مفید مشورے دیے۔ مہاتیر محمد نے خصوصی طور پر آئی ایم ایف سے قرض کے حصول سے

متعلق حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے قرضہ لینے سے گریز کیا جائے۔مہاتیر محمد نے کہا کہ آئی ایم ایف یا ورلڈکپ سے قرضہ لینے سے معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں، پاکستان متبادل حل تلاش کرے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد خان نے مزید کہا ہے کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے۔ واضح رہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ دیا گیا، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر عمران خان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔وزیراعظم ہاؤس میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور مہاتیر محمد نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا جبکہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بھی بجائی گئیں۔وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کا کابینہ ارکان سمیت دیگر سینئر حکام سے تعارف کرایا، ملائیشین وزیراعظم نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب کا اپنے وفد سے تعارف کرایا۔کابینہ اراکین سے تعارف کے بعد مہاتیر محمد کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔ ملائیشین وزیر وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا، دہشت گردی نے مسلم ممالک کو بہت متاثر کیا، دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی۔عمران خان نے کہاکہ مغرب میں اسلاموفوبیا پھیلا اور کسی بھی ایک مسلمان کی جانب سے کیے جانے والے جرم کو ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے جوڑا جانے لگا۔انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ واقعہ

میں دہشت گرد نے بے دردی سے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ویڈیو بنائی اس پر اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد کا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری جماعت نے 22 سال قبل کرپشن کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک غریب نہیں ہوتا کرپشن اسے غریب کردیتی ہے، کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور اس میں انسانی وسائل پر خرچ ہونے والی رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان کیلئے اعزاز ہے، انہیں مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے

ہیں، مہاتیر محمد کے قائدانہ کردار کے متعرف ہیں، ملائشیا مسلم دنیا کیلئے ماڈل کے طور پر ابھرااور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے بہت کم مسلم رہنما ایسے ہیں جنہوں نے ان معاملات پر موقف اپنایا جس نے مسلم دنیا کو متاثر کیا۔اس موقع پر معزز مہمان ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان آمد پر بے انتہا خوش ہوں اور یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت میری لیے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی، مسلم امہ کو درپیش مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات ہوئی ، تجارت میں اضافے کے لیے اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، پاکستان

ملائیشیا کے درمیان براہ راست سرمایہ کاری پر بھی بات ہوئی، معیشت اور تجارت میں بہتری کے لیے مل کر کوششیں کریں گے،ہم دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قوانین معلوم ہونے چاہئیں تاکہ تاجروں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہونی ہو۔مہاتیر محمد نے کہا کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے جب کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوں گی، اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے معاملات پر بات چیت کی جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اپنی تجارت بڑھائیں گے تو معیشت میں بہتری آئیگی۔