Web
Analytics
غیور قوم کی بیٹی ! ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی چیخ و پکار ۔۔۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا – Lahore TV Blogs
Home / کالم / غیور قوم کی بیٹی ! ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی چیخ و پکار ۔۔۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا

غیور قوم کی بیٹی ! ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی چیخ و پکار ۔۔۔ ڈاکٹر تصور حسین مرزا

میں پاگل نہیں ہوں میں ایک مسلمان عورت ہوں مجھے مرد فوجی زبردستی برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور میرے قدموں میں قرآن ڈالا جاتا ہے۔ میڈیا پر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی جیلوں میں خواتین قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہوتا ہے۔ امریکن عدالت میں پاکستانی بے گناہ شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکیوں کا اصل چہرہ دیکھایا تھااور کہاکہ Strip Searching کے نام پر خواتین کی تذلیل اور تشدد عام سی بات ہے۔ ٹیکساس کی جس جیل میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رکھا گیا ہے اس کو House of Horror کہا جاتا ہے۔ مارچ، 2017 ء کے اوائل میں ہیوسٹن، ٹیکساس میں پاکستانی قونصلیٹ کی خاتون قونصلر عائشہ فاروقی کی امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ کی حالت

زار دیکھ کر اپنے آنسوؤ ں پر قابو نہ پا سکی ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی (پیدائش 2 مارچ، 1972ء) کراچی میں پیدا ہوئی۔ 8 سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں علمائی (.Ph.D) کی سند حاصل کی۔بدقسمتی تو یہ بھی ہے کہ مشرف دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے 23جنوری 2012 کو ان الفاظ میں عافیہ کی معصومیت اور اپنی غلطی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ میری غلطی تھی کہ میں نے معصوم ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کیا تھا جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں‘‘امریکی سینیٹ کی رپورٹ میں سی آئی اے کی طرف سے قیدیوں پر غیر انسانی تشدد کے اعتراف نے امریکا کے مکروہ چہرے پر پڑے انسان دوستی کے سنہرے نقاب کو ایک بار پھر نوچ پھینکا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے بگرام جیل میں آنکھوں سے دیکھنے والے بزرگ کہتے ہے کہ میں ایک سال قبل جب افغانستان کے صوبہ پروان گیا تو وہاں بگرام جیل کے ایک قیدی سے ملاقات ہوئی تھی۔ 55سالہ افغان بزرگ سہراب خان نے پانچ سال بگرام جیل میں جرم بے گناہی کی سزا کاٹی ہے۔گفتگو کے دوران سہراب خان نے اپنی گرفتاری اور قید کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی شہری عافیہ صدیقی کو بھی 2003میں لاکر بند کیا گیا تھا جو پوری جیل میں واحد خاتون قیدی تھی۔ اس نے بتایا کہ مختلف مواقع پر اس کی چار مرتبہ عافیہ صدیقی سے مختصر ملاقات ہوئیں اور اس نے انہیں دلاسا دیا تھا۔ سہراب خان نے بتایا کہ 2005میں امریکا سے کچھ فوجی آئے تھے، جو عافیہ صدیقی کو ہیلی کاپٹر پر کہیں لے گئے۔ تین

دن بعد جب اس کو واپس لایا گیا تو وہ اپنے قدموں پر نہیں، بلکہ اسٹریچر پر تھی۔ ہمیں پتا چلا کہ اس کو کراچی سے آگے کھلے بین الاقوامی سمندر میں کھڑے امریکن بحری بیڑے پر لے جایا گیا تھا جہاں معلومات لینے کے لیے اس پر بد ترین تشدد کیا گیا۔ رات کے سناٹے میں اس کی درد ناک چیخیں سن کر سارے قیدی روتے تھے۔سہراب نے ایک اور آنکھوں دیکھا واقعہ سناتے ہوئے کہا، ’’ایک دفعہ عافیہ بلند آواز سے قرآن کریم کی تلاوت کررہی تھی۔ ایک امریکن فوجی عورت نے اسے تلاوت سے منع کیا لیکن اس نے تلاوت جاری رکھی۔ غصہ میں آکر اس فوجی عورت نے عافیہ صدیقی کو ایک کرسی پر بٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیے اور پھر اس بد بخت عورت نے

زبردستی عافیہ کا منہ کھول کر شراب ڈالی۔ اس فوجی عورت کی شرمناک حکرت پر تمام قیدیوں نے شام کے کھانے کی ہڑتال کردی۔ ا س بات کا جب جیل کے ایک سینئر افسر کو پتا چلا تو اس نے فوجی عورت کو بگرام جیل سے ٹرانسفر کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد قیدیوں نے ہڑتال ختم کی۔ جنوری کی سخت سردی میں ایک دن صبح سویرے عافیہ صدیقی کو جیل کے درمیان موجود گراؤنڈ میں لایا گیا عافیہ کے جسم پر قیدیوں کی سنگل وردی تھی جبکہ اس پاؤں ننگے تھے، جن میں زنجیر تھیں۔ اس کے پاس کھڑے تمام سی آئی اے اہلکاروں نے لان بوٹ موٹے کوٹ اور سر پر گرم ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ سہراب خان نے بتایا کہ گراؤنڈ ہماری بیرک کے سامنے تھا۔ ہم سب قیدی پریشان ہوگئے کہ

معلوم نہیں یہ ظالم ہماری بہن کے ساتھ کیا ظلم کرنے والے ہیں۔ سہراب نے بتایا کہ اس وقت تک سورج نہیں نکلا تھا ہرطرف دھند چھائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے گرم کپڑوں اور بیرک کی چار دیواری کے باوجود سردی سے ہمارے جسم بری طرح ٹھٹھر رہے تھے۔ اتنی خوفناک سردی میں ہماری آنکھوں کے سامنے دو امریکی فوجیوں نے ٹھنڈے پانی کی بھری ہوئی بالٹیاں لا کر عافیہ کے سر پر الٹ دیں، جس سے اس کے منہ سے اذیت اور کرب بھری چیخیں نکلیں۔ اس کے بعد ایک فوجی نے ان کی کمر پر بندوق کا بٹ مارتے ہوئے گراؤنڈ کا چکر لگانے کا حکم دیا۔ وہ مشکل سے کھڑی ہو کر دو قدم چلی، پھر پیروں میں پڑی زنجیروں کی وجہ سے زمین پر گر گئی۔یہ انسانی حقوق اور عورتوں کے

حقوق کے علمبردار امریکا اصل چہرہ ہے۔ ان ذلیل امریکی فوجیوں کو ایک نہتی اور بندھی ہوئی عورت پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہوئے ذرا ترس نہیں آیا، بلکہ اس فوجی نے زمین پر کیچڑ میں لت پت عافیہ کی ٹانگوں پر زوور سے ایک اور رائفل کا بٹ مارا، جس سے عافیہ کے منہ سے پھر چیخیں بلند ہوئیں اور اس نے ایک بار پھر اٹھ کر چلنے کی کوشش کی۔ سہراب نے بتایا کہ اس دن دو گھنٹے تک وہ ظالم امریکی وحشی درندے ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ظلم کرتے رہے اور ہم سب بے بسی سے سلاخوں کے پیچھے سے یہ دردناک منظر دیکھتے رہے۔انتہائی افسوس کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان واپسی

کیلئے زیادہ پر امید نہیں ہے.وزارت خارجہ نے عافیہ صدیقی کو واپس لانے کیلئے سابق دور حکومت میں کی گئی کوششوں سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ سابق ن لیگ کے دور حکومت میں متعدد مرتبہ امریکی صدور کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی درخواست دی گئی لیکن امریکی حکومت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا،پاکستان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے کی پیشرفت میں مشکلات ہیں.ڈاکٹر عافیہ کی باحفاظت رہائی اور پاکستان واپسی کے لیے ہرممکن کوشش جاری رہے گی، موجودہ پاکستانی حکومت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے تین وکلا کی خدمات حاصل کیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے مقدمے میں اپنا دفاع نہیں کیا،بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہا?س میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کمیٹی کوان کیمرہ بریفنگ میں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان واپسی کی زیادہ امید نہیں ہے۔ حکومت پاکستان کوشش کر رہی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو رہا کر دیا جائے اور وہ پاکستان آکر اپنی باقی سزا پوری کریں۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے کی پیشرفت میں مشکلات ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومت نے 20 لاکھ ڈالرز کے عوض تین وکلا کی خدمات حاصل کیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے مقدمے میں اپنا دفاع نہیں کیا۔ ایک واقعہ ہے جب عباسی خلیفہ منصور ایک رات طواف کررہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی اے اللہ! میں تیری بارگاہ اقدس میں ظلم وزیادتی کے تجاوز‘ حق اور اہل حق کے درمیان حرص و طمع کے داخل ہوجانے کی شکایت کرتا ہوں‘‘۔خلیفہ منصورکو اس نے بتایا کہ اے مسلمانوں کے امیر! میرا چین آنا جانا رہتا تھا‘ ایک مرتبہ جب میں وہاں گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں کے غیر مسلم بادشاہ کی قوتِ سماعت جواب دے گئی ہے اور وہ کانوں سے بہرہ ہوچکا ہے‘ اس دن بادشاہ نے بھری مجلس میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا‘ اہلِ مجلس اسے صبر کی تلقین کرنے لگے‘ تواس نے سر اٹھایا اور کہا: ’’میرا رونا اس لئے نہیں کہ مجھ پر مصیبت آن پڑی ہے‘ بلکہ میں تو اس مظلوم کے لئے رورہا ہوں جو ظلم کی فریاد لے کر داد رسی کے لئے میرا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور میں اس کی بات نہ سن سکوں گا‘‘پھر بادشاہ نے اعلان کیا کہ آج کے بعد ملک میں مظلوم کی پہچان سرخ کپڑے (لباس) سے ہوگی‘تاکہ مظلوم کا یہ امتیازی لباس دیکھ کر میں اس کی مدد کرسکوں‘ پھر وہ ہاتھی پر سوار ہوکر نکل کھڑا ہوتا اور مظلوم کی مدد کرتا‘‘۔ امیر المؤمنین! اس بادشاہ نے مشرک ہونے کے باوجود اپنی قوم کے ساتھ کس قدر ہمدردی کی اور ایک آپ ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے اور اہل بیت کے ایک فرد ہونے کے باوجود اپنی خواہش نفس کو مسلمان رعایا کی خیر خواہی پر قربان نہیں کرسکتے:ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا امریکہ سے واپس نہ آنا اور امریکی دہشت گردوں قاتلوں کا باعزت واپس امریکہ چلے جانا۔ یہ صرف امریکہ بہادر کی سپر پاور ہونے کی تصدیق ہی نہیں بلکہ پاکستان سے ، اپنی خودمختاری اور اسلام سے بغاوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ابھی وقت ہے کہ اگر ظلم سہتے سہتے ڈاکٹر عافیہ صدیقی جان کی بازی ہار گئی تو پھر اللہ کا عذاب پاکستانی حکمرانوں کو ’’ دنیا اور آخرت میں نشان عبرت ‘‘ بنا دے گا ۔تاریخ گواہ ہے جنہوں نے اپنی قوم اسلام اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو کی ہے ۔اللہ پاک نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے اور ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ۔