Web
Analytics
ریاستِ مدینہ اور عمران خان۔۔۔تحریر: خالد خان – Lahore TV Blogs
Home / کالم / ریاستِ مدینہ اور عمران خان۔۔۔تحریر: خالد خان

ریاستِ مدینہ اور عمران خان۔۔۔تحریر: خالد خان

وزیراعظم عمران خان اکثر ریاست مدینہ کی بات کرتے رہتے ہیں اور ریاست مدینہ کی مثالیں بھی دیتے رہتے ہیں۔یہ انتہائی خوش آئند ہے۔ بلاشبہ عمران خان جو کہتے ہیں،وہی کرنا بھی چاہتے ہیں۔ہمیں ان کے اخلاص پر شک نہیں کرنا چاہیے۔وہ سچے اور مخلص انسان ہیں۔وہ حقیقتاً پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ غریب آدمی کو زیادہ فائدہ پہنچے تاکہ غریب اور امیر کے درمیان خلیج زیادہ نہ ہو۔سابقہ حکمرانوں کے بعض غلط پالیسوں کی وجہ سے مڈل طبقہ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے حالانکہ معاشرے میںمڈل طبقہ ناگزیر ہے۔وزیراعظم عمران خان کو لوگوں نے ووٹ تبدیلی اورنئے پاکستان کیلئے دیے۔لوگوںکے خیال میں تبدیلی اور نئے پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف ملے اور وہ باعزت زیست بسر کرسکیں۔ ہر پاکستانی کو آسانی

سے کم ازکم دو وقت کا کھانا نصیب ہو۔تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہوں۔ عمران خان نے اپنے پرانے ورکرز کے بجائے الیکٹیبلز سیاستدانوں کو پارٹی ٹکٹ دیے۔وہ لوگ زیادہ تر پاکستان مسلم لیگ یا پاکستان پیپلز پارٹی سے آئے ہوئے ہیں۔وہ دونوں پرانی پارٹیاں ہیں اور دونوں کا الگ الگ مزاج ہے۔ مذکورہ دونوں پارٹیاں اقتدار میں آتی رہی ہیں۔جب انسان اقتدار میں آتا ہے تو بہت سعی کے بعد بھی ان کے مزاج میں تھوڑی بہت تبدیلی آتی ہے۔بعض اوقات اقتدار کے نشے کی وجہ سے انسان سے غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں ۔یقینا ان سے بعض غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئی ہیں۔غلطیوں کے بعد ان کی اصلاح بھی ممکن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے الیکٹیبلز منتخب تو ہوگئے لیکن ان کا مزاج وہی پرانا ہے۔ یکدم تبدیلی مشکل ضرور ہے،تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے وزارت خزانہ کا قلمدان اسد عمر کو دے دیا۔وزیر خزانہ اسد عمر نے روپے کی قدر گرا دی جس سے نہ صرف پاکستانی قرضوں میں اضافہ ہوگیا بلکہ مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مہنگائی کا اثر غریب آدمی پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔وطن عزیز میں ستر فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زیست بسر کرنے پر مجبور ہے۔کسی نے غریب آدمی سے پوچھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟غریب آدمی نے جواب دیا کہ دو اور دو چار روٹیاں ہوتی ہیں۔اس نے چار روٹیاں کا جواب اس لئے دیا کیونکہ غریب آدمی کو روٹی کی فکر ہوتی ہے اور وہ روٹی کے بارے میں سوچتا ہے۔ پاکستان میں ایسانظام ہے کہ صرف امیر ہی الیکشن لڑ اور جیت سکتا ہے۔ چونکہ وزراء خزانہ امیر آتے ہیں ۔ان کو کھبی روٹی کی فکر نہیں ہوتی اور ان کو عملی طور پر غربت کا اندازہ نہیں ہوتا ۔وہ ملکہ فرانس کی طرح روٹی کی بجائے کیک کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یقیناًہمارے محترم وزیرخزانہ اسد

عمر کے اپنے ٹارگٹ ہونگے لیکن غریب آدمی ٹارگٹ نہیں روٹی کے بارے میں سوچتا ہے۔لوگوں نے عمران خان کو بہت امید اور توقع سے ووٹ دیے ہیں۔وزیرخزانہ اسد عمر ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عمران خان اور غریب لوگوں کا خیال کرنا چاہیے۔عمران خان نے ان پر بہت اعتماد کیا ہے اور ان کو بہت اہم وزارت دی ہے۔ان کو آئی ایم ایف سے قرض نہیں لینا چاہیے اور آئی ایم ایف کی وجہ سے روپے کی قدر کم نہیں کرنی چاہیے۔ بجلی ، گیس اور پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے نہیں کرنے چاہیے کیونکہ اس سے عام آدمی سخت متاثر ہورہا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرضوں اور توانائی کے ذرائع میں اضافے کے علاوہ بھی متعدد آپشنز ہیں۔وزیر خزانہ اسد عمر کو دیگر آپشنز پر ورک کرنا چاہیے ،وزیراعظم عمران خان اور عوام کا احساس کرناچاہیے یایہ وزارت کسی اور کو دینی چاہیے ۔قارئین کرام!(الف)دنیا بھر کے

ممالک کی معیشت تقریباً زوال پذیر ہے۔اس کی بنیادی وجہ سودی کاروبار ہے۔سود کابزنس اللہ رب العزت اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان صاحب ایک طرف ریاست مدینے کی مثالیں دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف سود پر قرض لے رہے ہیں۔پاکستانی لوگ کم وبیش 72 برس سے کڑوی گولیاں کھارہے ہیں ۔ مستقبل میں آئی ایم ایف کے سودی قرضوں اور آئی ایم ایف کی غلامی کے طوق کے بعد نہ صرف کڑوی گولیاں کھائیں گے بلکہ بقول ہمارے محترم وزیر خزانہ اسد عمر، لوگ مہنگائی سے چیخیں گے۔ وزیرخزانہ اسد عمر صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے ملک ترقی نہیں کرے گا بلکہ محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کو چاہیے کہ معیشت دانوں اور علماء کرام کی مشترکہ میٹنگ طلب کریں۔ان کو بتائیں کہ ایسا معاشی نظام تجویز کریں جو سودی نظام

سے بالکل پاک ہو ۔ اور عوام کو اعتماد میں لیں کہ آپ 72سالوں سے کڑوی گولیاں کھارہے ہو ،چند سال مزید کڑوی گولیاں کھائیں اور کھانا تین ٹائم کے بجائے دو ٹائم کھائیں یا آدھا کھائیں۔ فضول خرچیاں بالکل ختم کریں۔محترم وزیراعظم عمران خان صاحب سود سے پاک معاشی نظام لائیں گے تو ان کو اللہ رب العزت کی مددو نصرت ملے گی اور عوام بھی ساتھ دے گی۔پھر بہت جلد ایسا وقت آئے گا کہ آپکو ” زکوٰۃـ” لینے والا کوئی نہیں ملے گا اور آپکی معیشت اور ملک دونوں ترقی کریں گے۔انشاء اللہ العزیز۔(ب)کفار مکہ سرور کائنات ﷺ اور مسلمانوں کو بہت زیادہ اذیتیں دیتے تھے۔حضور اکرمﷺ اور مسلمانوں کو ہر طریقے سے تکلیفیں دیں ۔ حتیٰ کہ سرور کونین ﷺ اور مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔پھر کفار مکہ نے مدینے میں بھی حضور کریم ﷺ اور مسلمانوں کو چین سے نہ رہنے دیا اوران کے خلاف جنگوں

سمت متعدد حربے استعمال کیے۔الغرض کفار مکہ نے ہر لحاظ سے ریاست مدینہ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تھالیکن جب فتح مکہ کا موقع آیا تو رحمت العالمینﷺ نے سب کو معاف کردیا۔ محترم وزیراعظم عمران خان صاحب!آپ ریاست مدینے کی مثالیں دیتے ہیں اور مدینہ منورہ میں جوتے بھی نہیں پہنتے ہیں۔ آپ بھی فتح مکہ کی مثال سامنے رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول زرداری سمیت سب کیلئے عام معافی کا اعلان کریں اورسب کواپنا تمام سرمایہ ملک واپس لانے کی تاکید کریں۔ اور قانون بنائیں کہ (الف) کرپشن کرنے والوں کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط اور عمر قید یا سزا موت مقرر کریں۔ (ب)رقم کی ایک حد رکھیں جس سے زیادہ رقم یا سرمایہ کوئی بھی فرد ملک سے باہر نہ رکھ سکے ۔ملک

سے باہر زیادہ سرمایہ رکھنے والوں کی بھی جائیداد ضبط اورقید کی سز امقررکریں ۔قارئین کرام !روپے کی قدر کم ، توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافوں اور آئی ایم ایف کے قرضوں سے غربت اور کرپشن میں مزید اضافہ ہوگا اور ملک سے باہر سرمایہ بھی واپس نہیں لا یا جا سکے گا۔البتہ سود سے پاک معاشی نظام اور عام معافی سے ملک ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔انشاء اللہ العزیز۔