Web
Analytics
بڑھتی ہوئی غربت اور آبادی مسائل کی بنیاد ہیں۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / بڑھتی ہوئی غربت اور آبادی مسائل کی بنیاد ہیں۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

بڑھتی ہوئی غربت اور آبادی مسائل کی بنیاد ہیں۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

پاکستان میں تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہمیں کئی مسائل کا سامنا ہے مردوںسے خواتین کی تعداد 51لاکھ زیادہ ہے آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.4%رہی ہے پنجاب اور سندھ میں اس شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بلوچستان، فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں اضافہ ہوا ہے ، آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جہاں 37%لوگ شہروں اور63%دیہی علاقوں میں رہتے ہیں دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جس کی آبادی کا بڑا حصہ 52%شہری علاقوں میں رہتا ہے صوبہ سرحد کی81%آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے بلوچستان کی90%آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے ملک کی کل آبادی22کروڑ کے لگ بگ ہے پسماندہ علاقوں سے ترقی یافتہ شہروں کی طرف آبادی کی منتقلی سے سماجی ، رہائشی اور روز گار کے مسائل بڑے ہیں اس منتقلی کی بنیادی وجہ دیہی علاقوں میں روز گار کی کمی ،زرعی زمین کے پیدا واری

یونٹس کی خاندانی تقسیم ، بنیادی تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان اور چھوٹی ذاتوں سے تعلق رکھنے والی برادریوں کے ساتھ جاگیر داروں، وڈیروں اور زمینداروں کا نام مناسب سلوک ہے ، دوسرے تعلیم یافتہ نوجوان روز گار اور مزدوری کیلئے شہروں میں منتقل ہونے کیلئے مجبور ہیں ، دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے 2.7%کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے رہائش کے مسائل بڑھ رہے ہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں10بلین گھروں کی کمی کا سامنا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق اگر50لاکھ گھر تعمیر ہو بھی گئے تو 40لاکھ مزید درکار ہونگے، پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروز گاری کی وجہ سے کوئی آدمی اپنے خاندان کے کھانے پینے تعلیم اور صحت کا بمشقل ہی بندوبست کر سکتا ہے ، مگر مکان تعمیر کرنے کے بارے میں سوچ نہیں سکتا ہے ، صحت اور تعلیم بہت مہنگے ہو چکے ہیں ، ریاست نے نیو لبرل ازم کے ایجنڈے کے تحت عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ، پاکستان میں60%بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشور نما درست طریقے سے نہیں ہو رہی ہے وہ بچے جن کی ذہنی نشور نما صحیح طریقے سے ہو نہیں رہی ہے وہ زندگی کی دوڑ میں کیسے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ، ماں کو اگر مکمل خوراک نہ دی جائے تو صحت مند بچے پیدا نہیں کر سکتی ۔ ان تمام انسانی مسائل کی وجہ غربت اور روز گار کے مناسب مواقع دستیاب نہ ہونا ہے ہماری ورک فورس میں سالانہ پچیس لاکھ نوجوان داخل ہو رہے ہیں جو کہ ملک کی60%پر مشتمل ہے ۔ ملک میں کل لیبر کا محض 4%کسی یونین یا رجسٹرڈ لیبر میں شامل ہے اس غیر روایتی لیبر کی کثیر تعداد سڑکوں اور بازاروں

میں روز گار کی خاطر کھڑی ہوتی ہے مگر اس میں کوئی اچھا مکینک ، پلمبر یا الیکٹریشن نہیں ملتا ہے۔ دیہی علاقوں میں زیادہ کھیت مزدور ہیں جن میں خواتین کی خاصی تعداد ہے عورتیں سماجی اور معاشی محرومیوں سے دو چار ہیں غربت اور بے بسی کی زندگی گزار رہی ہیں ، تو دوسری طرف لاکھوں گریجویٹ روز گار کی منڈی میں ملازمت کیلئے داخل ہو رہے ہیں ۔ جن کیلئے چند دہائیوں قبل سرمایہ کاری اور صنعتوں کے پھیلائوں کی وجہ سے روز گار کے خاصے مواقع موجود تھے مگر اب نامعلوم وجوہات اور دبائو کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعت کاری سمٹ رہی ہے ترقیاتی کام بند کیے جا رہے ہیں ۔ بیورو کریسی اپنا کام درست طریقہ سے سر انجام نہیں دے رہی ہے ملک کے موصولات کی وصولی تیزی سے کم ہو رہی ہے ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جس سے غریب طبقات سب سے

زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔سابق حکومتوں نے ملک میں غریبی کی کمی یا خاتمے کیلئے کئی سوشل ویلفیئر کے اقدامات اٹھائے ہیں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں نیشنل والنٹیر اور پیپلز ورکس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں اور لیبر کو روز گار فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ پسے ہوئے طبقات بالخصوص مزدوروں کیلئے لیبر پالیسی کا اعلان اور ان کی ویلفیئر کیلئے اولڈ ایج اور سوشل سیکیورٹی جیسے اداروں کا قیام یقینی بنایا مگر اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے پسے ہوئے نچلے طبقات کی بہتری کیلئے کوئی قانون سازی نہیں کی ہے جنرل ضیاء الحق نے زکواۃ کا نظام قائم کیا اور اس کے ساتھ بیت المال جیسے ادارے قائم کئے جن کیلئے غریب طبقات کی مالی امداد کی جاتی رہی ہے بینظیر انکم سپورٹ کے تحت غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کی مالی امداد کی گئی ، جنیجو نے تین مرلے کی کالونیاں

تعمیر کروائیں ، دوسری طرف ملک میں نجی طور پر قائم فلاحی اداروں نے بھی عوام کی خدمت کی ہے جس میں مخیر خضرات اور اداروں کی مدد سے لوگوں کو مفت خوراک علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں یاد رہے کہ پاکستان میں متول افراد سالانہ 2ارب ڈالر کی خیرات کرتے ہیں یہ شرح بھارت کی نسبت دوگنی ہے ۔مشکل یہ آئی ہے کہ اقوام متحدہ کے دبائو کے تحت خیراتی اداروں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہے عطیات دینے والوں کیخلاف پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جس سے صاحب ثروت فراخ دل افراد پریشان ہیں ان میں سے بیشتر کو دہشت گردی اور اس کی معاونت کے کھاتے میں رکھا جا رہا ہے ، بھارت کے کہنے پر امریکہ کسی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتا ہے حکومت نے منی لانڈرنگ روکنے کیلئے بینکوں میں اکائونٹ اپوننگ اور ترسیلات بھجوانے اور وصول کرنے کے لا تعداد سوالات اٹھائے ہیں ۔اس طرح اچھے سے اچھا شہری کو بھی اپنا کردار مشکوک دیکھائی دیتا ہے ۔ جماعت الدعوۃ لشکر طیبہ اور دیگر تنظیمیں ہمیشہ سے غیر قانونی اور مشکوک نہیں رہی ہیں۔ انہوں نے 2002میں آزاد کشمیر کے زلزلہ اور سیلابوں کے درمیان امدادی کارروائیاں کی ہیں ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جہاں پر ریاست کوئی قابل اعتبار فلاحی نظام تشکیل نہیں دیتی ہے تو وہاں پر سماجی تنظیموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو غریبوں کو مفت کھانا کھلاتی ، گھروں میں راشت تقسیم کرتی اور لوگوں کا علاج معالجہ کرتی ہیں 67%مستحق افراد سے براہ راست رابطہ کرتی ہیں ۔ ایدھی فائونڈیشن اور چھیپا فائونڈیشن میں لا تعداد نوجوان رضا کارانہ طور پر کام کر رہے ہیں ۔ سندھ میں مخیر خضرات کی تعداد زیادہ ہے اور ایسے فلاحی ادارے قائم ہیں جہاں پر غریب مریضوں کا مہنگے سے مہنگا علاج مفت کیا جاتا ہے ، سندھ حکومت نے ایک

این جی او کے تعاون سے ایک لاکھ روپے کی لاگت سے دیہی علاقوں میں چھوٹے مکانات تعمیر کئے ہیں جس میں لیبر کے حوالے سے وہ کنبہ خود مدد کرتا ہے ، بعض فلاحی تنظیموں کیخلاف ایف اے ٹی ایف کی ہدیات کے تحت کارروائیوں کی وجہ سے لوگ عطیات دینے سے گریز کر رہے ہیں جس سے بہت سے خاندان امداد سے محروم ہو رہے ہیں ۔فلاحی تنظیموں کے امدادی اقدامات سے وقتی طور پر غریب طبقات کو ریلیف مل جاتا ہے مگر انہیں غربت سے نکالنے کیلئے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے یہ کام ریاست ہی سر انجام دے سکتی ہے عمران خان کی حکومت نے غربت کے خاتمہ کیلئے احساس کے نام سے فلاحی پروگرام لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاور ٹی ایلویشن کوارڈینشن کونسل کی چیئر مین ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا شخص خط غربت سے

نیچے زندگی گزار رہا ہے ، 40%آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے خوراک کی کمی سے بچوں کی درست نشو ر نما نہیں ہو رہی ہے جس سے ان کا دماغ اور قد چھوٹے رہ جاتے ہیں ملک میں نظام کی شفافیت کیلئے آڈٹ کے اداروں کو مضبوط بنانے سرکاری مالیاتی سسٹم اور پرو کیور منٹ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور ٹھیکیداری سسٹم میں کرپشن روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ ترقیاتی پروجیکٹس کا بیشتر حصہ کمیشنوں کی نظر ہو جاتا ہے حکومت نے جس تخفیف غربت پروگرام کا آغاز کیا ہے اس سے غربت اور پسماندگی میں کمی ہوگی یاد رہے بلوچستان ، سندھ اور پختونخواہ کے دیہی علاقوں میں بہت زیادہ غربت ہے جبکہ پنجاب میں صورتحال قدرے بہتر ہے حکومت کے بقول یہ منصوبہ ریاستی اور حکومتی نظام کے بدلنے کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ موجودہ جاری نظام تمام اختیارات اشرافیہ کو دیتا ہے مگر موجودہ حکمرانوں نے غریب طبقات کی بہتری کیلئے احساس پروگرام کا آغاز کیا ہے جس میں ایک حصہ روز گار اور ملازمتوں کے متعلق ہے اس پلین میں پانچ ایریاز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر پالیسیوں کے ذریعہ غریبوں کے روز گار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے یہ تمام اقدامات اپنی جگہ ہیں مگر آبادی کے اضافہ میں کنٹرول اور ریاست کے وسائل میں اضافہ کیلئے معیشت کے صنعت کاری کے انجن کو چالو کرنا ہوگا اور برآمدی گرئوتھ کو بڑھانا سب سے اہم ہے موصولات کی وصولی میں اضافہ سے ریاست کے وسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے جن کو عوام کی بنیادی سہولیات کیلئے خرچ کیا جا سکتا ہے۔