Web
Analytics
اسٹاک ایکس چینج کریش، سرمایہ کاروں کا سب کچھ ڈوب گیا – Lahore TV Blogs
Home / بزنس / اسٹاک ایکس چینج کریش، سرمایہ کاروں کا سب کچھ ڈوب گیا

اسٹاک ایکس چینج کریش، سرمایہ کاروں کا سب کچھ ڈوب گیا

کراچی(نیو زڈیسک) کراچی اسٹاک مارکیٹ میں سب کچھ ڈوب گیا ۔ تفصیلات کے مطابق 100 انڈیکس گذشتہ تین سال کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا۔ 550 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 36500 پر آگیا۔ اسد عمر یقین دلا رہے ہیں کہ معیشت بہتر ہو جائے گی لیکن سرمایہ کار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی یہ صورتحال کافی تشویشناک ہے ۔محمد سہیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے تیل اور گیس کے ذخائر کے سہارے سرمایہ کاروں کو کافی یقین دہانی کروانے کی کوشش کی ہے لیکن سرمایہ کار کسی طور ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف دعووں اور وعدوں سے کچھ نہیں ہو گا۔ جب تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہو جائیں گے ، تب کی تب

دیکھیں گے۔ موجودہ معاشی صورتحال اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی کی وجہ سے حکومت اور سرمایہ کاروں کے مابین بھی دوری پیدا ہو گئی ہے اور سرمایہ کار اب کسی طرح بھی حکومت پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔یاد رہے کہ آج عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات ابھی مزید خراب ہوں گے اور آئندہ مالی سال میں بھی پاکستان کی معیشت میں بہتری آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آئی ایم ایف نے اس بات کا انکشاف کیا کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی شرح ترقی 2.9 فیصد رہے گی۔آئندہ مالی سال میں بھی معیشت میں بہتری ممکن نہیں ہے۔ 2024ء میں شرح نمو 2.5 فیصد سے بھی کم رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان میں 2019ء میں مہنگائی کی شرح میں 7.6 فیصد اضافہ ہوگا۔ 2019ء میں بے روزگاری میں6.1 فیصد اضافہ ہوگا۔ جبکہ 2020ء میں بے روز گاری کی شرح 6.2 فیصد سے بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔ 2020ء تک مہنگائی کی شرح 9.3 فیصد سے بھی بڑھ جائے گی۔پاکستانی برآمدات سال 2019ء میں 6.6 فیصد کم ہوں گی۔ 2020ء میں مزید کم ہوجائیں گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2024ء تک بیرونی ادائیگیوں کا توازن 65 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ تیل کی قیمتوں میں عدم توازن اور خطے میں بدلتی صورتحال کا اثر پاکستان پر بھی ہوگا۔ جس کے پیش نظر پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔