Web
Analytics
ہمیں نیب کے نوٹسز اورمنی لانڈرنگ میں نام آنے کی کوئی پروا نہیں، لندن جاتے ہی سلمان شہباز کے تیور بدل گئے،حیران کن ردعمل دیدیا – Lahore TV Blogs
Home / پاکستان / ہمیں نیب کے نوٹسز اورمنی لانڈرنگ میں نام آنے کی کوئی پروا نہیں، لندن جاتے ہی سلمان شہباز کے تیور بدل گئے،حیران کن ردعمل دیدیا

ہمیں نیب کے نوٹسز اورمنی لانڈرنگ میں نام آنے کی کوئی پروا نہیں، لندن جاتے ہی سلمان شہباز کے تیور بدل گئے،حیران کن ردعمل دیدیا

لندن (نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزدے سلمان شہباز کا نیب کے نوٹسز پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نیب کے نوٹس دینا یا منی لانڈرنگ میں نام آنا کوئی نئی بات نہیں۔ اور نہ ہی ہمیں اس کی پرواہ ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلمان شہباز جو ریچبورن کورٹ ایجویر روڈ لندن پر رہائش پزیر ہیں اور میڈیا سے بات کرنے سے بھی ہمیشہ اجتناب کرتے ہیں۔تاہم اس بار نیب کی طرف سے خصوصی طور پر شہباز شریف کی ساری فیملی کو نوٹسسز ملے تو سلماان شہباز میڈیا کے کیمروں سے جان نہ چھڑا پائے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے تو سلمان شہباز ریجنٹ پارک میں فون کا سہارا لیتے ہوئے کسی بھی سوال کا جواب دئے بغیر چلے گئے مگر اگلے ہی دن جب انہیں دوبارہ ایجویر روڈ پر صحافیوں کا سامنا کرنا پڑا تو جواب دیا کہ یہ نوٹسسز کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہمیں اس کی کوئی پرواہ ہے۔ب کہ دوسری جانب وفاقی وزیر

اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ شریف خاندان اور زرداری کے دولت کمانے کا طریقہ واردات ایک ہے، دونوں کا اپنے دفاع کے لیے اب موقف بھی ایک ہو چکا ہے، جب سے اربوں روپے کے کالے دھن کے حقائق سامنے آئے ہیں شہباز شریفاینڈ سنز سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا، سلمان شہباز حقائق کا جواب دینے سے قاصر رہے، ان کے پاس اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کا کوئی جواب نہیں تھا، قوم کی امید ہے کہ قانون بھی ان سے حساب لے گا، اگر یہ سچے ہیں تو کھل کر تردید کر یں اور اپنے دفاع میں ثبوت لائیں۔انہوں نے کہا کہ سلمان شہباز حقائق کا جواب دینے سے قاصر رہے، ان کے پاس اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی کا کوئی جواب نہیں تھا، وہ ملک سے بھاگے ہوئے ہیں اور ان کا واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ شریف خاندان اور زرداری کا دولت کمانے کا طریقہ واردات ایک ہی ہے اسی لئے اب دونوں کا اپنے دفاع کے لیے موقف بھی ایک ہو چکا ہے کیونکہ دونوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔