Web
Analytics
نیب، حکومت اور معاشی بحران ۔۔۔تحریر : انجینئر اصغر حیات  – Lahore TV Blogs
Home / کالم / نیب، حکومت اور معاشی بحران ۔۔۔تحریر : انجینئر اصغر حیات 

نیب، حکومت اور معاشی بحران ۔۔۔تحریر : انجینئر اصغر حیات 

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کل بالکل بے بس نظر آئے، نیب پر الزام ہے وہ بزنس مین کمیونٹی اور بیورو کریسی کو ہراساں کرتا ہے، اس وجہ سے ملک میں معاشی سرگرمیاں اور انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں، بیورو کریسی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کررہی، افسران دستخط کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کل نیب نہ بلا لے، رہی سہی کسر حکومت نے پوری کردی، حکومت نے افسران کو دھمکانا شروع کردیا، کون سا افسر ہوگا جو دھمکیوں کے بعد حکومت کی بات مانے گا، سادہ الفاظ میں اب جائز کام بھی نیب کے احتساب اور حکومتی دھمکیوں کی وجہ سے نہیں ہو رہے، اسد عمر اور حماد اظہر سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کا حوالہ دیتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے معاشی

حالات کو حفیظ پاشا صاحب بہتر انداز سے سمجھتے ہیں اور بہتر صحیح طور پر بیان کرسکتے ہیں، ایک سینئر اینکر پرسن نے حفیظ پاشا کو اپنے پروگرام میں بلا لیا اور پوچھا کہ پاکستان میں معاشی سرگرمیاں کیوں رک گئی ہیں، حفیظ پاشا نے بتایا کہ حکومت نے آتے ہی ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگا دیا جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں تقریبا رک گئی ہیں اور ملکی معیشت ترقی نہیں کررہی، حکومت نے بیورو کریسی کو دھمکا کر اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے معاشی بحران کی بنیاد رکھی اور اپنی ناکامی چھپانے کیلئے نیب کو بحران کا ذمہ دار قرار دیدیا، ایسا نہیں ہے کہ نیب بھی دودھ سے دھلی ہوئی ہے، نیب نے جس طرح لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں وہ سب کے سامنے ہے اور سپریم کورٹ بھی اس پر بار بار نیب کی سرزنش کر چکی ہے، سابق ممبر سی ڈی اے اسد منیر کی خود کشی نے نیب کے طریقہ کار پر کئی سوالات اٹھائے ہیں، لیکن کیا نیب نے اپنا طریقہ کار بدلا؟ اب جب سر پر آئی ہے تو اب کہنا کہ ہم بیورو کریٹس اور بزنس مین کمینوٹی کے لوگوں کو نیب آفس طلب نہیں کریں گے، ہتھکڑیاں نہیں لگائیں گے، ٹیلی گراف ٹرانسفر کے بارے میں نہیں پوچھیں گے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اس وقت کیا جارہا ہے جب نیب کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہمارے ادارے اس وقت تک رویہ نہیں بدلتے جب تک ان سبکی کا سامنا نہ کرنے پڑے، بہر حال چیئرمین نیب جتنا بڑا اعلان کریں، جتنی بڑی چھوٹ دیں بیورو کریسی اور بزنس کمیونٹی نیب پر آرام سے ہی اعتماد کرے گی اور اس دوران وقت مزید آگے بڑھے گا اور حکومت کو مزید بے چینی رہے گی۔