Web
Analytics
”جن میں اتحاد نہیں ہوتا وہ غلام رہتے ہیں“ – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / ”جن میں اتحاد نہیں ہوتا وہ غلام رہتے ہیں“

”جن میں اتحاد نہیں ہوتا وہ غلام رہتے ہیں“

لارڈرپن ساڑھے چار سال تک ہندوستان کا وائسرائے رہا تھا‘ اس نے 13دسمبر 1884ءکو وائسرائے کی پوزیشن سے استعفیٰ دیا اور باقی زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔ وہ جنوری 1885ءمیں جب ہندوستان سے واپس جانے لگا تواس نے دہلی کے وائسرائے ہاؤس میں مقامی زمینداروں‘ جاگیرداروں‘ تاجروں اور سرمایہ داروں سے الوداعی خطاب کیا۔ اس خطاب میں اس نے اس خطے کی پسماندگی‘ غربت اور بے چارگی کی وجوہات بیان کیں۔ لارڈرپن کا کہنا تھا برصغیر میں 20کروڑ لوگ رہتے ہیں‘ یہ تعداد پورے یورپ کی آبادی سے چار گنا زیادہ ہے۔ہندوستان معدنیاتی وسائل‘ قدرتی نعمتوں دریاؤں‘ کھیتوں اور پہاڑوں کے معاملے میں بھی یورپ سے کہیں بہتر ہے۔ ہندوستان حقیقتاً سونے کی

چڑیا ہےاور اگر یہ سونے کی چڑیا نہ ہوتا تو یورپ کی اقوام کبھی ہندوستان نہ آتیں۔ لارڈرپن کا کہنا تھا لیکن ان قدرتی نعمتوں‘ وسائل اور بھاری تعداد کے باجود ہندوستان غلام بھی ہے‘ غریب بھی اور محروم بھی‘کیوں؟ لارڈ رپن کا کہنا تھا اس کی واحد وجہ اس خطے کے لوگوں کا رویہ ہے۔ ہندوستان کے لوگوں میں اتفاق نہیں‘ یہ لوگ مختلف نسلوں‘ مذہبوں اور برادریوں میں تقسیم ہیں چنانچہ یہ غلام ہیں۔ لارڈ رپن نے کہا ”اور یاد رکھیں وہ لوگ جن میں اتحاد نہیں ہوتا وہ ہمیشہ غلام رہتے ہیں‘ غریب رہتے ہیں اور محروم رہتے ہیں“۔اس کا کہنا تھا ”اور یاد رکھو تم لوگ اس وقت تک محروم بھی رہو گے‘ غریب بھی رہو گے اور غلام بھی رہو گے جب تک تم متحد نہیں ہوتے“۔ہم پورے ہندوستان کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے ہمیں یہ ماننا پڑے گا آج ایک سوبیتس برس بعد لارڈرپن کی بات سو فیصد سچدکھائی دیتی ہے۔ ہمارے تمام مسائل کی واحد وجہ ہماری نا اتفاقی‘ ہمارا نفاق ہے۔ ہم مسائل کی بلی کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں لیکن ہم اکٹھا ہونے‘متحد ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اتفاق وہ طاقت ہوتی ہے جو چھوٹے چھوٹے پتھروں‘ کنکروں‘ اینٹوں اور مٹی کےچند ڈھیلوں کو دیوار بنا دیتا ہے اور یہ دیوار انسانوں کو ہوا‘ بارش‘ طوفان اور سیلاب سے بھی محفوظ رکھتی ہے اور دشمنوں سے بھی اور نا اتفاقی وہ بدنصیبی ‘ وہ بدقسمتی ہوتی ہے جو لوہے جیسے مضبوط دیوار کو مٹی کے ڈھیلوں‘ اینٹوں اور چھوٹے چھوٹے پتھروں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ آپ یقین کیجئے ہم اگر آج متحد ہو جائیں‘ ہم پورے اخلاص کے ساتھ کسی ایک ایجنڈے پر متفق ہو جائیں تو ہمارے اسی فیصد مسائل حل ہو جائیں گے ۔ ہمیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے اس اتفاق کی جو بھیڑوں کے ریوڑ کو بھیڑیا نہیں بناتالیکن انہیں بھیڑیوں کالقمہ بننے سے ضرور بچا لیتا ہے۔ ہمیں اس وقت اس اتفاق کی ضرورت ہے۔