Web
Analytics
ہماری شہ رگ کب آزاد ہو گی؟الیاس حامد – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / ہماری شہ رگ کب آزاد ہو گی؟الیاس حامد

ہماری شہ رگ کب آزاد ہو گی؟الیاس حامد

جس رگ سے زندگی کا دارومدار ہو اسے شہ رگ کہتے ہیں اور انگریزی میں اسے Lifeline کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کشمیر کو ہماری شہ رگ کسی عام مفکر اور قائد نے نہیں کہا بلکہ قوم کے محسن اور قائد جناب قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ کشمیر جو ہماری شہ رگ ہے۔ کشمیر دنیا کے خوبصورت خطوں اور علاقوں میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور معنوی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ عرصہ دراز سے ہندوستان کی نگاہ بد اس پر لگی ہے۔ اس نے آٹھ لاکھ آرمی اس چھوٹے سے خطے میں

داخل کر رکھی ہے جو آئے دن کشمیریوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہی ہے۔کشمیریوں کا اپنی سرزمین پر زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کاروبار زندگی اور دیگر امور زندگی میں بے شمار دشواریاں اور پریشانیاں ہیں۔ مردوں کے لئے قید و بند کی صعوبتیں اور عورتوں کی عصمت دریاں، قائدین کے لئے نظر بندیاں اور آزادی کے طلب گاروں کیلئے گولیاں ہیں جو ان کے سینوں میں پیوست کی جاتی ہیں۔ آئے دن شہداء کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہر خموشاں آباد اور آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ ان اٹھنے والے لاشوں پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے۔ ہندو آرمی جو رقص ابلیس کر رہی ہے اس پر اقوام عالم کی آنکھیں بند ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں بے حس ہیں بلکہ عالم اسلام نے بھی اپنا حقیقی کردار پیش نہیں کیا۔پاکستان کی سیاسی حکومت نے تو مسئلہ کشمیر کو سیاسی سردخانے میں ڈال دیا جبکہ فرمان قائد کے مطابق تو کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمارے آرمی چیف کے بیان کی روشنی میں کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ ان دونوں بیانات کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو بات یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر زندہ اور باقی نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کا احیا اور اس کی بقا کشمیر میں مضمر ہے۔ شہ رگ کٹ گئی تو پورا جسم ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا اپنا وجود باقی رکھنے کے لئے خون کے آخری قطرہ تک کشمیر کے حصول کے لئے، کشمیریوں کی آزادی کیلئے ہر محاذ پر دشمن ہندو کا مقابلہ کرنا ہے، اس کو شکست دینی ہے اور اپنے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنا ہے۔ آرمی چیف کے بیان نے کشمیریوں کے حوصلے بلند کئے ہیں، وہ گرتے گرتے ایک بار پھر کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے گرتے ہوئے پرچم کو تھام لیا ہے۔ سرینگر کے لال چوک اور دیگر اہم مقامات پر پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام متحدہ، اقوام عالم اور

مسلم امہ کو بتا دیا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہماری تہذیب و ثقافت، رہن سہن، شادی خوشی، غمی، طور اطوار، عقائد و نظریات اور عبادات ہندوئوں سے نہیں پاکستانی مسلمانوں سے ملتی ہیں، لہٰذا ہم پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں، ہندوستان سے نہیں۔شہادت اور عزیمت کے سفر نے کشمیری قیادت اور عوام میں شجاعت و بہادری کی نئی روح پھونکی ہے کہ آج کشمیریوں نے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا رکھا ہے، اپنی گردنوں میں پاکستانی پرچم پہن رکھا ہے بلکہ کچھ لوگوں نے پورا پورا سوٹ ہی پاکستانی پرچم جیسا سلوا

رکھا ہے۔ دختران ملت کشمیر کی بہنوں کے دوپٹے پاکستانی پرچم ہیں۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے ان پر مقدمے ہو چکے ہیں، انہیں غدار قرار دے کر پس دیوار زنداں ڈالا گیا ہے۔ پاکستانی پرچم اٹھانے، لہرانے کی وجہ سے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور بازاروں میں گھسیٹا گیا مگر! جذبہ ہے کہ سر چڑھ کر بول رہا ہے، ولولہ ہے کہ آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، حوصلہ ہے کہ جو چٹان سے زیادہ مضبوط، عزیمت ہے جس کے سامنے ہندوستانی ہیچ و پست، پھر ان حالات میں جب یہ نعرہ بلند ہوتا ہے پاکستان سے رشتہ کیا، ’’لا الہ الا اللہ‘‘ تو ہندو

آرمی کے سینے جل جاتے ہیں، ایوان لرز جاتے ہیں، ان کی پیشانیاں پسینہ سے شرابور ہو جاتی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں کیونکہ ان پر رعب ڈالنا حکم ربی ہے اور ان کے خلاف کھڑے ہونا امر الٰہی اور یہی بندئہ مومن کی شان ہے۔ہمیں مومنانہ شان سے کشمیریوں کے حق میں اور ہندوستان کے خلاف کھڑے ہونا ہے اور کسی کا انتظار کئے بغیر اور کسی کی طرف دیکھے بغیر کھڑے ہونا ہے۔ یہ مسئلہ خالص پاکستان کا مسئلہ ہے،اقوام متحدہ کا نہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اقوام متحدہ کی نہیں۔ وہ ظالم تو تماشائی ہیں، ڈرامے باز اور تماش بین ہیں، وہ تو

مسلمانوں کا بہتا ہوا خون دیکھ کر جشن مناتے اور تالیاں پیٹتے ہیں، مسلمانوں کو چھلنی دیکھ کر وہ رقص کرتے ہیں۔ میں پھر کہوں گا ، مسئلہ کشمیر ہمارا مسئلہ ہے، ہم نے اس کو حل نہ کیا تو ہم پر بہت بڑا وبال آئے گا، اس مسئلہ میں تاخیر کی بھی گنجائش نہیں، سستی اور مداہنت بھی نہیں اور پوشیدہ سیاست بھی نہیں چلے گی۔ بھارت سے آلو پیاز کی تجارت، سریے اور سیمنٹ کے کاروبار اور ذاتی دوستیوں سے کہیں زیادہ ہمیں کشمیر اور کشمیر بھائی عزیز و پیارے ہونے چاہئیں، بھارت کی عیاری و مکاری سے محفوظ رہنا ہر حوالے سے ہمارے لئے بہتر

ہے۔ ہمارا ملکی مفاد بھی اسی میں ہے کہ ہم دشمن کو دشمن ہی سمجھیں اور دوست کو دوست خیال کریں۔ پاکستان کو دولخت کر کے بھی بھارت کی ہوس ختم نہیں ہوئی۔ بھارت اور دنیائے کفر تو کب کی پاکستان کو کئی ٹکڑوں میں بانٹنے اور تقسیم کرنے کے گھنائونے پلان بنا چکی ہے۔ یہ تو اللہ کا خاص کرم ہے کہ ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے اللہ نے پاکستان کو مشکل وقت سے نکال دیا۔اب وہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جمانے کی پوزیشن میں زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ کشمیر اب ہمارے لیے جس جغرافیائی ضرورت کی حیثیت اختیار کر

گیا ہے اس کو تو ستر سال قبل قائدا عظم بیان کر چکے اور انہوں نے پاکستا ن کی شہ رگ قرار دے کر ہمارے حکمرانوں کے لیے پالیسی وضع کر دی کہ اپنے ملک کو بچانا چاہتے ہو تواپنی شہ رگ کو ہرصورت دشمن کے قبضے سے چھڑائو ورنہ تمہار عمل تنفس اور زندہ رہنے کا عمل بھی دوبھر اور دشوار ہو کر رہ جائے گا۔ہمارے کھیتوں اور کھلیانوں کو سیراب کرنے والے دریا تمام تر مقبوضہ کشمیر سے ہو کر آتے ہیں۔بھارت نے نصف دریا تو سندھ طاس معاہدے کے ذریعے سے ہتھیا لیے، باقی وہ چور ی اور دھونس ہر دو طریقے سے چھیننے

کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارے دریائوں پر غیر قانونی بند باندھ کر ان کے رخ اپنی طرف موڑ کر ہمیں ریگستان میں تبدیل کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومتیں ہر دور میں اس سلسلے میں کمزوری اور کاہلی کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ بھارت کی اس پانی چوری اور آبی دہشت گردی پرکوئی مؤثر آواز اور کارگر اقدام نہ اٹھا سکیں ۔بیشتر کو تو بھارت سے دوستی اور یک طرفہ محبت کے بھرم نے مجبورکیے رکھا۔ ایسا کچھ کرنا پڑا ۔ وہ بھارت کو موسٹ فیورٹ قرار دینے کے چکر میں ہی رہیں۔ بھارت اس دوران میں پاکستان پر کاری وار کرتا رہا اور پاکستان کے دریاؤں

کا پانی روک کر اپنے مکروہ منصوبے پر عمل پیرا رہا اور یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں ۔یوں اس نے اس طرح ہماری شہ رگ کو دبوچنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔اب اس شہ رگ کو ہم کیسے اور کب چھڑاتے ہیںیہ بہت ہی بڑا اور اہم مسئلہ ہے اور اس پر پوری قوم کو اور خاص کر حکمرانوں کو سنجیدگی سے کچھ کرنا ہوگا ااور یہ اقدام عملی نوعیت کے ہونے چاہئیں ورنہ زبانی جمع خرچ تو پہلے بہت کر چکے ہیں۔