Web
Analytics
اپنے اردگرد موجود لوگوں کی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کریں اور امیر ہوجائیں، وزیراعظم کی قوم کو پیشکش، اطلاع دینے والوں کوکتنے فیصد حصہ دیا جائیگا، شاندار اعلان کردیا – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / اپنے اردگرد موجود لوگوں کی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کریں اور امیر ہوجائیں، وزیراعظم کی قوم کو پیشکش، اطلاع دینے والوں کوکتنے فیصد حصہ دیا جائیگا، شاندار اعلان کردیا

اپنے اردگرد موجود لوگوں کی بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کریں اور امیر ہوجائیں، وزیراعظم کی قوم کو پیشکش، اطلاع دینے والوں کوکتنے فیصد حصہ دیا جائیگا، شاندار اعلان کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ بے نامی جائیداد کی نشاندہی کرنے والے کو اس کا 10 فیصد انعام کے طور پر دیا جائے گا۔احساس پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بے نامی جائیدادوں سے حاصل ہونے والا پیسہ احساس پروگرام میں شامل کیا جائے گا تاکہ غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ 60 فی صد پاکستانی 30 سال کی عمر سے کم کے ہیں، نوجوانوں کو قرضے دے کر ہنر مند اور کاروباری بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام میں احساس موجود ہے لیکن حکومتیں اس سے محروم رہیں، وہ قوم ترقی کرتی ہے جس میں احساس ہوتا ہے۔شہباز شریف کے بیان

پر انہوں نے کہا کہ وہ وہ کہتے ہیں اتنی سزا دینا جتنی برداشت کر سکے، ان کے لیے میرا پیغام ہے کہ میں تو موت بھی برداشت کر سکتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے لندن کے 40 دورے حکومتی خرچے پر کیے، انہوں نے کرپشن کے پیسوں پر عیاشیاں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ موٹروے بنانے سے ترقی نہیں ہوتی، 5 فیصد پاکستانیوں کو ہیپاٹائٹس سی ہے، 30 سال کی حکومت میں بہتر علاج کے لیے ایک بھی اسپتال نہیں بنایا، جو بھی بیمار ہوتا ہے علاج کے لیے لندن چلا جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں ایف بی آر کو بھی ٹھیک کر کے دکھاؤں گا اور اس قوم سے ٹیکس اکٹھا کر کے دکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہیں بھی یہ نہیں پڑھا یا گیا کہ ریاست مدینہ جدید ریاست تھی جس میں غریبوں کا احساس موجود تھا، ہم بھی پاکستان میں پہلی دفعہ غربت کم کرنے کا پروگرام لائے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں 18سال کا تھا جب برطانیہ گیا، میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ انسانیت کیاہوتی ہے۔مجھے اس اسلامی ملک میں انسانیت نظر نہیں آئی جو اسلام کے نام پر بنا، میں نے برطانیہ میں انسانوں کی ہی نہیں جانوروں کی قدر دیکھی۔مجھے تب دین کا علم نہیں تھا۔ لیکن بعد میں اسلام کی تاریخ پڑھی، ہمیں یہاں قرآن پاک پڑھا دیتے ہیں لیکن آگے کا کچھ پتا نہیں ہوتا۔میں ریاست مدینہ کا مطالعہ کیا، میں نے کسی جمعے کے خطبے میں نہیں سنا کہ ریاست مدینہ کیا ہے؟ ریاست مدینہ میں ماڈرن ریاست تھی،ریاست مدینہ کے تمام چیزیں جدید دور کے مطابق تھیں، وہاں کمزور طبقات کا احساس تھا ۔جانوروں اور انسانوں میں فرق یہ ہے کہ جانوروں کے معاشرے میں کوئی احساس نہیں ہوتا۔عمران خان نے کہا کہ ہم پانچ وقت کی نماز میں یہ مانگتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں کے

راستے پر لگا دے۔نبی پاک ﷺ نے راستہ دکھایا کہ ریاست کی ذمہ داری انسانوں ، کمزوروں اورعورتوں کو حقوق دینا، غلاموں کوبھی اوپراٹھا دیا، حضرت بلال  نے دو مہم چلائیں۔ریاست مدینہ نے 700سال تک دنیا کے مثال بن گئی۔لوگ ان کا کلچردیکھ کرمسلمان ہوگئے تھے۔احساس کے بغیر کوئی قوم تہذیب وتمدن کا گہوارہ نہیں بن سکتی۔لوگوں کو ہمارے دین کی سمجھ ہی نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کے مشن پر ہم چلیں گے،نیا پاکستان لوگوں کو غربت سے نکالے گا۔چین کی مثال ہے، چین کا مطالعہ کریں توچین نے ریاست مدینہ کے ماڈل کو اپنایا اور 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔آج چین کا جی ڈی پی 10بلین ڈالر

ہے۔وزیراعظم عمران خا ن نے کہا کہ میں سنتا تھا کہ ایشیئن ٹائیگر بنادوں گا، موٹروے بنادوں گا، لاہور کو پیرس بنا دوں گا ، یہ ترقی نہیں ہے۔لیکن یہاں لوگوں میں احساس نہیں ،غریبوں کیلئے الگ اور امیروں کا الگ ہسپتال ہے۔ایڈز کا اب پتا چلا جب لاڑکانہ میں پھیلی۔یہاں جو اٹھتا ہے لندن علاج کروانے چلا جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے شہریوں میں بہت احساس ہے۔میں نے ہسپتال بنائے اور یونیورسٹی بنائی۔عمران خان نے کہا کہ بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرنے والے کو 10فیصد دیں گے۔ہماری حکومت ایلیٹ ہے، اربوں کا علاج ہوتا ہے۔