Web
Analytics
قسمت بدلنے والامنصوبہ ہی پاکستان کیلئے عذاب بن گیا، پاکستان کو ریکوڈک کیس میں آئی ایم ایف سے ملنے والےقرض کے برابر جرمانہ کردیا گیا – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / قسمت بدلنے والامنصوبہ ہی پاکستان کیلئے عذاب بن گیا، پاکستان کو ریکوڈک کیس میں آئی ایم ایف سے ملنے والےقرض کے برابر جرمانہ کردیا گیا

قسمت بدلنے والامنصوبہ ہی پاکستان کیلئے عذاب بن گیا، پاکستان کو ریکوڈک کیس میں آئی ایم ایف سے ملنے والےقرض کے برابر جرمانہ کردیا گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ورلڈ بینک گروپ کے 5 اداروں میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کے خلاف 5.976 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم سنا دیا۔تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل ٹربیونل نے پاکستان کے خلاف 700 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے معاہدہ منسوخ کرنے کی وجہ نامناسب ہے۔ذرائع کے مطابق ریکوڈک کیس کے فیصلے سے وزیر اعظم عمران خان کو آگاہ کردیا گیا ہے جس پر حکومت نے جرمانے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بہت جلد جرمانے کے

خلاف اپیل دائر کی جائے گی تاہم پاکستان کی جانب سے نظرثانی کی اپیل کے فیصلے پر 2 سے 3 سال لگ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کیا تھا جس پر 2012ء میں ٹیتھیان کمپنی نے ورلڈ بینک کے ٹربیونل میں پاکستان کے خلاف مقدمہ درج کردیا تھا، پاکستان 7 سال تک انٹرنیشنل ٹربیونل میں اپنا مقدمہ لڑتا رہا اور اب اس کا فیصلہ آیا ہے۔۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان سے رابطہ کیے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل اس معاملے کو عالمی قوانین کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس پر آج اپنا رد عمل دے دے گی۔واضح رہے کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی انتظامیہ نے 11.43 ارب روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا ہے۔کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد آئی سی ایس آئی ڈی میں 2012 میں دائر کیا گیا تھا۔پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا۔ٹی سی سی نے کیس 12 جنوری 2012 میں دائر کیا تھا جبکہ آئی سی ایس آئی ڈی نے اس کے لیے ٹربیونل 12 جولائی 2012 کو قائم کیا تھا۔جرمنی کے کلوز ساکس نے ٹربیونل کی سربراہی کی جہاں بلگیریا کے اسٹانیمیر اے الیگزینڈوو نے کمپنی کی نمائندگی کی اور برطانیہ کے لیونارڈ ہوف مین نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ریکو ڈک جس کا مطلب بلوچی زبان میں ریت کا ٹیلہ ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔ریکو ڈک میں کم درجے کا تانبے کے کل ذخائر 5.9 ارب ٹن ہیں

جبکہ درمیانے درجے کا تانبہ اس کا 0.41 فیصد ہے اور سونے کے درجے کا 0.22 گرام فی ٹن موجود ہے۔اس ذخیرے میں کان کنی کرنے کے لائق حصے کا تخمینہ 2.2 ارب ٹن لگایا گیا ہے جہاں درمیانے درجے کا تانبہ 0.53 فیصد اور سونا 0.30 گرام فی ٹن ہے جس کی سالانہ پیداوار 2 لاکھ ٹن تانبہ اور 2.5 لاکھ اونس سونا ہے۔ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہد

ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا تھا۔آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔بعد ازاں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔