Web
Analytics
ایک طرف سچا اور ایک طرف جھوٹا دعویٰ ۔۔۔ راجہ طاہر محمود – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / ایک طرف سچا اور ایک طرف جھوٹا دعویٰ ۔۔۔ راجہ طاہر محمود

ایک طرف سچا اور ایک طرف جھوٹا دعویٰ ۔۔۔ راجہ طاہر محمود

مقبوضہ جموں کشمیر کی سفارتی ،اخلاقی ،سطح پر امداد پاکستان ہر لازم و ملزوم ہے کیونکہ یہ ایک ایسے ظالم و جابر ملک کے زیر تسلط ہے جسے دنیا بھارت کے نام سے جانتی ہے گو کہ بھارت اپنے جھوٹے دعوے کے تحت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور پاکستان ایک سچے دعوے کے مطابق اسے اپنی شہہ رگ قراردیتا ہے جبکہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو بھارت نے اپنے جھوٹے دعوے کو اپنی مضبوط سفارت کاری کے ذریعے سے سچ ثابت کرنا شروع کر دیاہے اور پاکستان نے اپنی ناکام سفارتی کوششوں کی وجہ سے اس کو جھوٹا ثابت

کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی کشمیر پر رائے اگر پاکستان کے عوام سے پوچھی جائے تو جواب بہت ہی مثبت آئے گا کیونکہ پاکستان کے عوام کشمیر سے ایک نظریاتی لگائو رکھتے ہیں اور یہ بات سمجھتے ہیں کہ قائد اعظم نے کیوں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا بھارت کشمیر میں جتنے بھی ظلم کر لے آخر کہیں نہ کہیں اس کے ظلم کو رکنا ہی ہے ہم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر کو تو نہیں روک سکے لیکن ہم اپنے قلم سے ان کے حوصلے تو بڑھا سکتے ہیںبھارت کا ظلم اب حد سے تجاوز کر رہا ہے وہ آئے روز اپنی ظلم و جبر کی رفتار بڑھا کر کشمیر یوں کے جذبہ آزادی کو آزما رہا ہے اور اپنی ناکامی پر وہ اور بھی زیادہ پاگل ہو جاتا ہے ایسے میں وہ باڈرز پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے بھارتی رویہ خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے ہیںپاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور کامیاب جنگ شروع کی ہے اور اس کامیابیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے لیکن بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے جس کا ثبوت بھارتی دہشت گرد کلبھوشن ہے کلبھوشن نے پاکستان میں بھارت کی تحریب کاریوں سمیت دیگر منصوبوں اور عزائم کا اعتراف کیا ہے بھارت ورکنگ بائونڈری اور ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی حوصلہ افزائی اور معاونت کرتا رہاہے بھارت اپنے طرز عمل سے نہ صرف خطے کے امن واستحکام کیلئے خطرہ بن رہا ہے جبکہ خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے سوال یہ ہے کہ ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کیوں طے پاتے

ہیں؟ ہر کوئی اس سوال کا جواب جانتا ہے کہ اس قسم کے معاہدے اس لئے معرض وجود میں لائے جاتے ہیں کہ ملکوں کے درمیان امن رہے اور وہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے ضمن میں یکسوئی سے اپنا کردار ادا کرسکیں گویا بنیادی ہدف اور متعلقہ امن کا قیام ہے جو ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے کسی بھی ریاست کا اولین فریضہ اپنے شہریوں کو تحفظ اور انہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں کی فراہمی ہے جو امن کے بغیر ممکن نہیں ہے اس تناظر میں غور کیا جائے تو بھارت کا طرز عمل خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرے کا

باعث تو ہے ہی یہ اس کے اپنے عوام کو بھی خوشحالی کی منزل سے دور کرتا ہے پاکستان دشمنی میں وہ اپنے عوام کو معاشی بدحالی کے گڑھے میں پھینک رہا ہے اس کی نام نہاد جمہوریت بھی اس کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں اس لئے ناکام رہی کہ اس نے جمہوریت کے کلیدی اصولوں کو پس پشت ڈال کر توسیع پسندی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ بھارت جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے جس طرح کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور جارحیت کیلئے راستہ ہموار کررہا ہے یہ صورتحال کا ایک پہلو ہے جبکہ دوسرا پہلو یہ

\ہے کہ پاکستان جو اس خطے میں دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑرہا ہے وہ اس کی توجہ بھی اس جنگ سے ہٹانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے پاکستان کے مشرقی اور مغربی بارڈر پر جنگی جنون پیرا کرکے وہ پاکستان کی تمام تر توجہ اس کے دفاع کی طرف مبذول کروانے کا خواہاں ہے یہ ایک بہت خطرناک منصوبہ ہے جو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کیلئے تقویت کا باعث ہوسکتا ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ انہیں کچلنے کی کوشش دم توڑ دیں اور وہ اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کریں انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی نریندر مودی حکومت کی

حقیقی پالیسی ہے اسی پالیسی کے تحت افغانستان میں اس کے درجنوں قونصلیٹ کام کررہے ہیں جو پاکستان مخالف طالبان کو اسلحہ ،تربیت اور اہداف فراہم کررہے ہیں جبکہ وہ کشمیر میں آئے روز ظلم وجبر کی و ہ داستانیں رقم کر رہا ہے جو بھارتی نام نہاد جموریت کے منہ پر وہ کالا دھبہ ہیں جو کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے پاکستان میں رہنے والے کشمیری اس بات سے بخوبی اگاہ ہیں کہ آزادی کیا ہوتی ہے اور یہ کتنی غیر معمولی شے ہے اس کا ادراک بھارت کے زیر تسلط کشمیریوں کو ہے یہ بات اب عالمی برادری کو بھی محسوس ہو رہی

ہے کہ اگر ان کی طرف سے بھارت کو اس ظلم وجبر سے نہ روکا گیا تو یہ ناصرف جنوبی ایشیاء بلکہ خود عالمی برادری کے لئے بھی بہت نقصان دہ وہ سکتا ہے ظلم و جبر کی داستانیں جو بڑھ، بڑھ کر اب لا محدود ہو چکی ہیں ان سے اٹھنے والے تحریکوں کو کنٹرول کرنا ناممکن ہو سکتا ہے ایسے میں بھارتی ظلم کو روکنے اور کشمیر یوں کی ہر سطح پر امداد وقت کی ضرورت ہے عالمی برادری اس بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو لگام ڈالے اور وہ حق جو کسی بھی ملک کے شہریوں کو حاصل ہو تاہے استصواب رائے وہ کشمیر کو بھی ملنا چاہیے تاکہ یہ فیصلہ وہ سکے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں دوسری صورت میں کشمیر میں لگنے والی یہ آگ بھڑک سکتی ہے rajatahirmahmood786@gmail.com