Web
Analytics
نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی تقسیم میں بد انتظامی ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی تقسیم میں بد انتظامی ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

نئے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی تقسیم میں بد انتظامی ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

پاکستان میں یہ عمومی تاثر ہے کہ یہاں پر تیزی سے پانی کی قلت ہو رہی ہے جس کیلئے دو ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے کیا اصل معاملہ یہ ہے قدرت نے پاکستان کو پانی کی فراہمی کیلئے تین بڑے نظام دیئے ہیں جنوب میں بحر عرب، آسمان میں سورج اور شمال میں اونچے پہاڑ ، ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش جب سورج چمکتا ہے تو سمندر سے اٹھنے والے پانی کے بحارات شمال کی طرف سفر کرتے ہیں اور اونچے پہاڑوں سے ٹھکراتے ہیں ٹھنڈے ہو کر بارش یا برف بناتے ہیں گلشیر بنتے ہیں دریا اور ندی نالے میدان کی طرف بہنے لگتے ہیں یہ معاملات صدی سے چل رہے ہیں یہ سسٹم اسی صورت تبدیل ہو سکتا ہے جب بحر عرب خشک ہو جائے اور پہاڑ میدان بن جائے مگر یہ عمل اتنی تیزی سے بند نہیں ہو سکتا ہے جبکہ سورج

سمندر اور پہاڑ موجود ہیں پانی میں کمی نہیں ہو سکتی گلوبل وارمنگ سے بارشوں میں اضافہ وہ سکتا ہے اور گلشیر پگھل سکتے ہیں مگر اس سے پانی میں کمی نہیں ہو سکتی ہے، پاکستان میں ماضی بعید میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین دریائوں کا رخ تبدیل کرنے کی اجازت دی تھی اب ہمیں اوسطاً MAF104پانی زراعت کے لئے دستیاب ہوتا ہے جن میں سے زیادہ ناقص نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے اسی پانی کی مقدار سے اسرائیل ہم سے ستر فیصد کیلفورنیا پچاس فیصد اور انڈین پنجاب تیس فیصد زرعی اجناس پیدا کرتا ہے اگر ہم نہروں کے نظام کو درست کریں تو ہم فاضل غذائی پیدا وار پیدا کرسکتے ہیں عالمی معیار کے مطابق کمیونٹی کو پنتیس گیلن فی افراد پانی کے پانی صفائی ، صحت اور دیگر ضروریات کیلئے ضرورت ہے اگر اس کو ہر فرد کو سپلائی کرنا چاہیے تو عالمی معیار کے تحت ہمیں12MAFکی ضرورت ہے بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے تحت MAF207انفرادی اور گھریلو ضروریات کیلئے ہو سکتی ہے ہماری صنعتی ضروریات کیلئے 8MAFکی ضرورت ہے جن میں صنعتوں کے اضافہ سے 10MAFہو سکتا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں پانی کا ضیائع بہت زیادہ ہے اس سے پیدا ہونے والی قلت کی وجہ سے صوبوں کے درمیان تضادات اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں کہ ہمارے صوبے کے پانی کے حق کو دبا لیا گیا ہے یا کم پانی فراہم کیا گیا ہے دوسرے زیر زمین پانی کا بے دریغ استعمال جس سے پانی کی سطح تیزی سے نیچے جا رہی ہے دوسری واٹر سیکٹر میں بد انتظامی اور کرپشن ہے شہری علاقوں ، بالخصوص بڑے شہروں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے شہروں میں واٹر مافیا نے لوگوں کی زندگیوں کو

اجیر ن بنا رکھا ہے بعض علاقوں میں صاف پانی کو گاڑیوں کے صاف کرنے اور دیگر ضروریات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کہیں پر لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جس کی وجہ ناقص منصوبہ بندی پانی کے بوسیدہ پائپ اور چوری شامل ہیں ہمارے پانی سے متعلق محکمے پانی کی کمی کا ہمیشہ شکوہ کرتے ہیں مگر اپنی نا اہلیوں کو درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ کیا ہم ڈیموں کے ذریعے پانی کے ضائع کو روک سکیں گے کیا ہم مخلویات آلودگی کو کنٹرول کر سکتے ہیں کیا ہم بد عنوانی کو ختم کر سکتے ہیں کیا ہم مون سون کے پانی کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں مگر ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جس میں ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ پانی کے نچلی طرف بہائو کی ضرورت

ہے اس ٹیکنالوجی سے نہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے جس سے ٹیل تک پانی کی فراہمی کی جا سکتی ہے ڈیم مساوی عوامل کو بروئے کار لا کر دریائوں کو ٹرانسپورٹ کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے کافی آمدنی ہو سکتی ہے خوش قسمتی سے پاکستان کے پانی کے بحران کے حوالے سے شور کا مقصد مسائل کو حل کرنا نہیں اصل مسئلہ انتظامی امور کو بہتر بنانا اور پانی کے ضائع کو روکنا ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان کا شمار دنیا کے تیسرے پانی کی قلت سے دوچار ممالک میں ہوگا 2040میں یہ جنوبی ایشیا ء کا سب سے کم پانی رکھنے والا ملک ہوگا پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا زیادہ پانی استعمال کرنے والا ملک ہے جس کی جی ڈی پی کا ایک یونٹ تھری ایم کیوب میٹر پانی استعمال کرتا

ہے اس کا مقصد ہے مستقبل میں ہمارے لیے زیادہ پانی دستیاب نہیں ہوگا پانی کی قلت اور دستیابی کے حوالہ سے ناپنے کے تین پیمانے ہیں فالکن مارک جس سے انسانی آبادی کے مقابلے میں پانی کی دستیابی کو ناپا جا سکتا ہے ایسے ممالک جہاں پر 1700پانی فی کس دستیاب ہے دبائو کی کیفیت میں ہوتے ہیں پانچ سو رکھنے والے شدید قلت سے دو چار ہوتے ہیں 1951سے قبل پاکستان میں پانی کی فراہمی پانچ لاکھ دو ساٹھ تھی جو کہ اب نو سو تین رہ گئی ہے جس کی وجہ آبادی میں اضافہ اور پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر نہیں ہے جوں جوں آبادی بڑھتی جائے گی اس کی کمی میں اضافہ ہوتا جائے گا ہم تیزی سے پانی کی عدم دستیابی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہم ذخائر اور زیر زمین پانی کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں ہم

سطح زمین سے 140بی ایم تھری اور زیر زمین پانی کا باسٹھ بی ایم تھری استعمال کر رہے ہیں اگر اسی تناسب سے پانی کی سپلائی میں کمی آتی گئی تو اس کی کامیابی2025میں31%ہوگی یہ تمام معاملات کی بہتری کیلئے اور پانی کے کامیابی مسائل کے حل کیلئے ہمیں واٹر غریبی انڈکس کے پانچ اجزاء پر غور کرنا ہوگا پانی تک رسائی پانی کی مقدار اور معیار اور دستیابی ، پانی کا گھریلو خوراک اور پیدا واری عمل کیلئے استعمال پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ماحولیات اثرات شامل ہیں پاکستان میں کم مقدار میں پانی دستیاب ہے واٹر کونسل سروے کے مطابق پاکستان کے چوبیس بڑے شہروں میں اسی فیصد ناقص پانی فراہم کیا جا
رہا ہے صرف تیس فیصد شہری اور چودہ فیصد دیہاتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اس حوالے

سے قائم کی جانے والے کمپنیاں کرپشن اور انتظامی بحران سے دو چار ہیں ۔پاکستان میں پانی کی کمی کی وجوہات میں ذخائر کرنے کی کم صلاحیت سر فہرست ہے امریکہ اور اسٹریلیا میں فی کس پانی کا سٹورج 500ایم تھری ، چین میں 2200ایم تھری ، مصر میں2362ایم تھری، ترکی میں 1402ایم تھری ایران492ایم تھری ، ہندوستان میں250ایم تھری جبکہ پاکستان میں 169ایم تھری دستیاب ہے جبکہ پانی ذخائرہ کرنے کی صلاحیت مصر مین1000دن، امریکہ900د ن، جنوبی افریقہ500دن، ہندوستان میں200دن اور پاکستان کے پاس صرف 130دن کا ذخیرہ ہے جبکہ کم از کم ذخیرہ 130ہونا چاہئے ہم صرف نو فیصد پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جبکہ دنیا میں اس کی اوسط چالیس فیصد ہے پاکستان میں ڈیموں میں مٹی اور ریت بھر جانے سے ان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے، ہم سالانہ 0.27ایم تھری پانی کے ذخائر کھو رہے ہیں ، پاکستان کو 80%پانی جون تا ستمبر کے 90دنوں میں ملتا ہے جبکہ32ایم اے ایف بحر عرب میں ڈال دیا جاتا ہے، 50%پانی ناقص نظام آبپاشی سے ضائع ہو جاتا ہے پاکستان میں قابل کاشت رقبہ77ایم اے میں سے75ایم زیر کاشت ہے جس کو نہری اور بارانی علاقوں میں بارشوں اور زیر زمین پانی سے کاشت کیا جاتا ہے مزیدزمین کو بھی زیر کاشت لایا جا سکتا ہے مگر اس کیلئے پانی کی ضرورت ہے ورلڈ بینک کے1967میں ایک رپورٹ میں حکومت کو تجاویز دی تھی کہ 10سال میں کم از کم ایک ڈیم تعمیر کیا جانا چاہیے مگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں اب موجودہ حکومت ڈیموں کی تعمیر کے حوالے میں سر گرم عمل دیکھائی دیتی ہے جس کیلئے عدالت عالیہ نے بھی خاصی دلچسپی کے ساتھ ابتدائی اقدامات اٹھائے ہیں زرداری حکومت نے2009میں ڈیموں کے پراجیکٹ کے لئے 112ارب ڈالر کی منظوری دی تھی مگر مالیاتی اداروں کی طرف سے مدد نہ ملنے کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر شرو ع نہ ہو سکی نواز شریف حکومت نے120ارب روپے زمین کی خریداری کیلئے رکھے تھے جس کیلئے کچھ کام کیا گیا تھا اس منصوبے کی اب لاگت 18ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو گی جو5.6ایم اے ایف پانی ذخیرہ کر سکے گا ہماری حکومت کو چندے پر انحصار کرنے پر بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے مدد حاصل کرنی چاہیے اس کے ساتھ پانی کے استعمال کے ضائع کو روکنا چاہیے اور صوبائی حکومتوں کے ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنا چاہیے موجودہ نہری نظام کو بہتر بنانے کیلئے نہرو ں راجوں اور کھالوں کے کناروں کو پختہ کرنا چاہیے جس سے 10ایم اے ایف پانی کی بچت ہو سکتی ہے زمینوں کو ہموار کرنا چاہیے تا کہ ٹیل تک پانی کی رسائی ہو سکے فواروں کے ذریعے فصلوں کوپانی دینا چاہیے بارشی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے چھوٹے ڈیم بنانے چاہئیں بڑے شہروں میں پانی کی ری سائیکلنگ کے پلانٹ لگانے چاہئیں پانی کو پاکستان کا محفوظ اثاثہ قرار دینا چاہئے اور زیر زمین پانی کی صنعتوں میں آزادانہ استعمال کو روکنا چاہئے اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی اقدامات اٹھا چکی ہے آج نئے ڈیموں کی تعمیر کیساتھ پاکستان میں موجود پانی کے ذخائر اور ان کے استعمال میں بد انتظامی اور کرپشن کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔