Web
Analytics
وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ۔ سانوں کادیاںخوشیاں چڑھایا ںنئیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ۔ سانوں کادیاںخوشیاں چڑھایا ںنئیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ۔ سانوں کادیاںخوشیاں چڑھایا ںنئیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

عمران خان کا دورہ امریکا ایک مرتبہ پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی طاقتوں کی دھڑے بندی میں بلدتی ہوئی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے عمومی طور پر جب سے پاکستان مارد وجود میں آیا ہے یہاں کے حکمرانوں کے امریکی دورے کو کسی بھی دوسرے ملک کے دورے سے اہمیت دی جاتی رہی ہے حالیہ دورہ جس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت ، ادارے اور امریکہ ایک پیج پر ہیں اس حوالے سے ہمیں نئی بات لگتی ہے 1960ء کی دہائی میں پاکستان کی ریاست نے چین کا متبادل سہرا لینے کی پالیسی بنائی تھی مگر وہ بھی ہمیں امریکہ اور مغربی اقوام کے چنگل سے چھڑا نہ سکی اس کی بنیادی وجہ ہے کہ امریکہ سب سے بڑی طاقت ہے اس لیے نئے گلوبل نظام میں رہتے ہوئے اس کی بالا دستی سے انکار کرنا

ممکن نہیں ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے دشمنی نہیں لی جا سکتی ہے موجودہ دورہ ماضی کے دوروں سے ایک حوالے سے مختلف ہے جس کی بنیادی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی مشترکہ قدرے ہیں ۔یہ عوام کے ایسے حصوں جو جمود کے عہد میں ایک رجعت ،خوف اور مایوسی میں مبتلا ہو کر انتہا پسندی کے اسیر بنے ہوئے ہیں اور ریاست کے دھڑوں کی حمایت سے اقتدار پر قابض ہوئے ہیں بنیادی طورپر ٹرمپ اور خان کا اقتدار میں آنا پاکستان اور امریکہ میں شدت پکڑے ہوئے بحران کی وجہ سے ہے اگر پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہاں پر معیشت زوال پذیر ہے صنعتی سر گرمیاں بند ہو چکی ہیں لوگ بے روز گار ہو رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے چند مہینوں میں ہونے والی مہنگائی کی مثال پاکستانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے سابق حکومتوں نے بھی قرضے لے کر ملکی انتظامی اور مالیاتی معاملات کو چلانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں قرضوں اور سود میں اضافہ ہوتا گیا اس طرح ہم عالمی مالیاتی اداروں کی جیکٹ میں جکڑے گئے ہیں یاد رہے کہ دو طرح کی جیکٹیں ہوتی ہیں ایک قیدیوں کو پہنائی جاتی ہے اور دوسری ذہنی مریضوں کو جس سے وہ ہاتھ منہ نہیں ہلا سکتے اگر دیکھا جائے تو ہم بھی اقتصادی حوالے سے عالمی مالیاتی اداروں کی جیکٹ میں جکڑے جا چکے ہیں ریاست کو ہم قرضوں سے چلا تو رہے ہیں مگر شائد ان کو درست طریقہ سے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر صنعت کاری اور سرمایہ کی تحریک کا کام سر انجام نہیں ہو رہا ہے اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے پاکستانی رپیہ امریکہ کے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے خیال تھا کہ دورہ امریکہ کے دوران

پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے بارے میں بات ہو گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا بلکہ ٹرمپ اور عمران خان کی گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی شخصیت کے سحر کا تذکرہ ہی رہی صرف افغانستان کے حوالے سے بات ہوئی اور صدر ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے میں اپنی ثالثی کی پیش کش کی امریکہ ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مورگی آرٹگس نے پریس کانفر نس میں کہا کہ ہم اب سوچ رہے ہیں کہ پہلی ملاقات پر پیش رفت کریں وزیر اعظم پاکستان نے وعدہ کیا کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر زور دیں گے ، ہم سمجھتے ہیں یہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ ہم افغانستان میں امن کیلئے پر عزم ہیں ۔ترجمان نے کہا اس کے علاوہ بہت سے معاملات پر نا صرف امریکی صدر بلکہ سیکرٹری سے ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا یہ وقت ہے

کہ ان ملاقاتوں میں کیے گئے وعدوںپر عمل درآمد کیا جائے دوران بریفنگ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آئندہ 48گھنٹوں میں امریکی یر غمالیوں سے متعلق اچھی خبر ملے گی مگر اب 48گھنٹے گزر چکے ہیں اس پر مورگن نے کہا کہ اس انتظامیہ کا امریکی یر غمالیوں کی واپسی پر ایک مضبوط ریکارڈ ہے ہم انسانی زندگی کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور ہم بیرون ملک یر غمال امریکی شہروں کی محفوظ واپسی کیلئے ہر ممکن وسائل کا استعمال کرینگے ساتھ یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے یہ کہا گیا ہم ان کی واپسی کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں افغان عمل سمیت بہت سے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کی قیادت پاکستانی آرمی چیف اور اس

کے ساتھ وفد نے کی جس کا اہتمام پینٹگا گون اور وزارت خارجہ میں کیا گیا اس ضمن میں کیا پالیسیاں طے کی گئیں اس کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہے بحر صورت پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہماری حکومت کو اتنے ہی وعدے کرنے چاہیں جن کا وہ بعد میں بوجھ برداشت کر سکے اس کے علاوہ وزیر اعظم نے واشنگٹن میں کہا تھا کہ وطن پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کر کے انہیں امن مذاکرات کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرینگے آج طالبان کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کی صورت میں ہی اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ رابطہ کریں گے ۔سوال یہ ابھرتا ہے کہ پاکستان وزیر

اعظم کے دورہ امریکہ سے ہمیں کیا حاصل ہوا ہے بظاہری طور پر یہ ہمیں بہت بڑی کامیابی نظر آتی ہے کہ امریکہ نے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ نریندر مودی نے اس ضمن میں صدر ٹرمپ سے درخواست کی تھی جس پر بھارتی اپوزیشن بہت سیخ پا ہوئی ہے بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بھی دہشت گردی سے جوڑ کر پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے بے انتہا سیاسی ، سفارتی سرمایہ کاری کی تھی لیکن اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلہ کے طور پر تسلیم کیا بلکہ بھارتی وزیر اعظم کو بھی بیک فٹ پر لے گئے بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی کارروائی جاری ہے اور بھارت کے وزیر خارجہ اپوزیشن جماعتوںکو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں

کانگرنس اور کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود ایوان میں آکر وضاحت کریں اب مودی کیلئے امریکی صدر کو سیدھا سیدھا جھوٹا قرار دینا بہت بڑی سیاسی آزمائش ہے اسی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات انتہائی گرمجوشی کے بعد تجارتی تنازعہ کا شکار ہیں یاد رہے کہ چند ماہ قبل ٹرمپ نے بھارت کو دی ہوئی تجارتی رعیاتوںکو واپس لے لیا تھا جس کی بنیادی وجہ بھارت کی روس سے مزائل سسٹم خریدنے کا معاہدہ تھا اس وقت امریکہ کو بھارت کے ساتھ 60ارب ڈالر کا سالانہ تجارتی خسارہ ہے اور امریکی سمجھتے ہیں کہ ہم زیادہ دیر تھ بھارت کے ساتھ خسارے کا لین دین نہیں چلا سکتے ہیں یاد رہے مودی کو ستمبر میں واشنگٹن دورے پر جانا ہے ۔قوم پرستی کی لہر کا شکار بھارتی میڈیا

تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ایسی درخواست کی ہو گی بھارتی میڈیا بھول رہا ہے کہ اس سال فروری میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فضائی جڑپوںکے بعد انتہائی کشیدہ صورتحال میں بہتری صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ہی آئی تھی جو انہوں نے کم جونگ ان سے انتہائی اہم ملاقات کی مصروفیات سے وقت نکال کر کی تھی صدر ٹرمپ نے وتنام کے دار الحکومت میں کہا کہ چند گھنٹوں میں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر آنے والی ہے صدر ٹرمپ سے کس نے درخواست کی یہ الگ موضوع ہے اس موقع پر ٹرمپ نے ڈیل میکنگ کی مہارت دیکھا دی تھی ۔وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کا دوسرا حاصل امریکی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف رخ کرنا ہے امریکی صدر نے ملاقات میں

دو طرفہ تجار ت کی بات کی امریکی حکومت کا کہنا ہے زراعت اور توانائی کے شعبہ میں تعاون کے امکانات موجود ہیں زراعت کو سر فہرست لانے کا مقصد چین جیسی بڑی منڈی سے ہاتھ دھونے والے امریکی کسانوں کیلئے نئی منڈیا تلاش کرنا ہے چین کے ساتھ تجارتی تنازعہ میں امریکہ کی سویا بین کی برآمدت متاثر ہوئی ہیں توانائی کے شعبہ میں جنرل الیکٹرانک پہلے ہی بڑے تونائی منصوبوں کیلئے ٹربائن فراہم کر چکی ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے امریکی کمپنی کو مزید حصہ ملے گا اس کے ساتھ ساتھ امریکہ ایل این جی اور قدرتی گیس کے شعبہ میں بھی دلچسپی لے رہا ہے امریکی کمپنیوں کے آنے سے تجارتی سر گرمیاں بڑھیں گی لیکن اس بات کا بھی خطرہ ہے تجارتی خسارہ نہ

بڑھ جائے پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے تجارتی رعاتوںکی ضرورت ہے یاد رہے کہ ابھی کولیشن سپورٹ فنڈ کو دوبارہ جاری کرنے کا اعلان نہیں ہوا جو کہ تقریبا 8بلین ڈالر امریکہ کے پاس موجود ہے یاد رہے جنوری2018میں ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر نے ہماری امداد بند کر دی تھی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے کئی حوالوں سے اہم پیش رفت ہوئی 7اور8جولائی میں انٹر افغان مذاکرات ہوئے افغان حکومت کے عہدیدار اور طالبان ایک میز پر اکٹھے ہوئے پاکستان نے اندرون ملک چند عسکری تنظیموں پر کریک ڈائون کیا ، کچھ گرفتاریاں ہوئیں اثاثے ضبط کیے گئے چند مدارس کے نظام میں اصلاحات کا ایک اور ڈھول ڈالا گیا امریکی حکام نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے

حوالے سے اپنی سمت سیدھی رکھتی ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور شراکت کا راستہ کھل سکتا ہے صدر ٹرمپ نے ملاقات میں پاکستانی حکمرانوں کے کردار پ بھی بد اعتماد کا اظہار کیا کہ انہوں نے کبھی اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش نہیں کی ہے جبکہ عمران خان نے کہا ہم امریکی حکومت کو کوئی ایسا شکوہ کا موقع نہیں دینگے، امریکہ کے ڈومور کی بات صرف افغان عمل تک محدود نہیں بلکہ امریکہ، افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارتی راستے کھلوانا چاہتا ہے کیونکہ اس سے ہی امن کیلئے سنجیدگی ظاہر ہوگی۔امریکی حکام نے سی پیک پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور ان صوبوں پر سرمایہ کاری اور قرضوں کو پاکستان کی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنبی کی اس کے ساتھ بڑا اور فوری

ایشو 5جی ٹیکنالوجی کا ہے اور وہ چینی کمپنی ہوائے سے 5جی ٹیکنالوجی لینے سے باز کرتے رہیں گے ۔انسٹٹیوٹ آف پیس امریکہ میں خطابکرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی افغان جہاد میں شرکت کے بارے میں اظہار کیا اور کہا کہ وہ قبائلی علاقوںمیں فوج بھیجنے کے خلاف تھے لیکن یہ بات درست نہیں ہے اگر پاک افواج کو انتہا پسندوں کے قلع قمع کیلئے قبائلی علاقوں میں نہ بھجوایا جاتا تو شائد پختونخواہ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر قابض ہو جاتے اور جس سے ہمیں عراق اور شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا مشکلات میں گری پاکستانی معیشت کیلئے اس دورے سے فوری امداد حاصل نہیں ہو سکی ہے امریکہ کے کاروباری صدر نے یہ پیش کش کی اگر پاکستان دلی طور پر تعاون کرتا ہے تو سیکیورٹی امداد کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے فوری فائدہ اگر ممکن ہوا تو ستمبر میں ایف

ڈی اے ایف کا جائزہ اجلاس پاکستان کے اقدامات پر مثبت رپوٹ دے گا لیکن اس کے بارے میں کوئی بیان نہیں آیا اگر ٹرمپ کی بے صبری کا جائزہ لیا جائے تو اس نے ملاقات میں کہا تھا کہ ہم افغانستان صرف دس دن میں اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں لیکن وہ ایک کروڑ لوگوں کا قتل عام نہیں چاہتے ہیںافغا ن عمل میں سب سے بڑا مسئلہ شراکت اقتدار کا ہے ۔ افغان حکومت میںکئی لاثانی گروہ اور جنگجو سردار شامل ہیںاگر طالبان کی واپسی ممکن ہوتی ہے اس صورتحال میں کئی گروپ ناراض ہوسکتے ہیں لیکن ٹرمپ کو اس کی پرواہ نہیں بر صورت میں کامیاب دورے کے بعد عمران کے اعتماد میں اضافہ ہو اہے اور وہ اپنے مطلوبہ سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھا سکتے ہیں جس میں اپوزیشن کو احتساب کے ذریعے سیاسی طور پر بے عمل کرنا ہے ۔تحریک انصاف اور اس کے حامی کس طرح کامیاب دورے کا جشن منا کر ہے ہیں لیکن پتہ نئیں اینا نوں کیڑیاں خوشیاں چڑھیا ں نئیں۔