Web
Analytics
لاہور میں انڈر ورلڈ کا راج! لاہوریوں نے پولیس اور عدالتوں میں جانا چھو ڑ دیا، بالاج ٹیپو، گوگی بٹ، طیفی بٹ اور علی باکسر لاہوریوں کے تنازعات کا فیصلہ کرنے لگے، تہلکہ خیز انکشافات پولیس اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / لاہور میں انڈر ورلڈ کا راج! لاہوریوں نے پولیس اور عدالتوں میں جانا چھو ڑ دیا، بالاج ٹیپو، گوگی بٹ، طیفی بٹ اور علی باکسر لاہوریوں کے تنازعات کا فیصلہ کرنے لگے، تہلکہ خیز انکشافات پولیس اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

لاہور میں انڈر ورلڈ کا راج! لاہوریوں نے پولیس اور عدالتوں میں جانا چھو ڑ دیا، بالاج ٹیپو، گوگی بٹ، طیفی بٹ اور علی باکسر لاہوریوں کے تنازعات کا فیصلہ کرنے لگے، تہلکہ خیز انکشافات پولیس اور پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور شہر انڈر ورلڈ کے چنگل میں، پولیس سے تنگ شہری بااثر ڈانز کے پاس تنازعات کے فیصلے کروانے لگے۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے انڈر ورلڈ ڈان طیفی بٹ، گوگی بٹ، بالاج ٹیپو، علی باکسر لاہور کے عوامی حلقوں میں منصف اور رحم دل انسان کے طورپر معروف ہونے لگے۔ محکمہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر انصاف نہ ملنے پر شہر کے متعدد افراد طیفی بٹ ، گوگی بٹ، علی باکسر، بھئی پہلوان اور بالاج ٹیپو ٹرکاں والا لاہور کی ایسی شخصیات ہیں. جن کے پاس اب بھی لوگ اپنے فیصلے

کروانے جاتے ہیں اور ان کے کئے ہوئے فیصلوں کو عوام دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں۔ ماضی میں ارشد امین چوہدری، طاہر پرنس، نوید لمبی والا، جھارا پہلوان، بھئی پہلوان اور ٹیپو ٹرکاں والا اپنے اپنے دور کے بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے تھے جن کے قدموں کی چاپ سے پولیس بھی کنی کتراتی تھی۔ طالب علم رہنما ارشد امین چوہدری کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ لیہ سے ٹریکٹر ٹرالی خریدنے کیلئے لاہور آیا اور طالب علم رہنما بن گیا اس کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا۔ ارشد امین چوہدری کی دشمنی دوسرے طالب علم رہنما عابد چوہدری اور عاطف چوہدری سے تھی۔ مذکورہ افراد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت سختی اور نادار لوگوں کا خیال رکھنے کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا جبکہ اس پر بھتہ لینے اور دوسرے سنگین جرائم کرنے کے الزامات بھی تھے۔ عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا بلاٹرکاں والا کا بیـٹا تھا اور شعبہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ تھا۔ یہ بھی غریب لوگوں سے محبت کرنے والا انسان تھا۔ لاہور کے نہ جانے کتنے ایسے خاندان تھے جن کو اس کی طرف سے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا اس کے اس جہان سے جانے پر کئی خاندان کفالت سے محروم ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل پر شاہ عالم مارکیٹ سوگ میں اس دن بند رہی۔ عوام سے محبت کا یہ عالم تھا کہ سیاستدان انتخابات میں کامیابی کیلئے اس کے ڈیرے پر حاضری دیتے رہے۔ اس کے علاقے کے غریب اسے حکمران مانتے تھے۔ اس وقت ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا بالاج ٹیپو ٹرکاں والا بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غریب لوگوں کی خدمت میں پیش پیش ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی اپنے باپ کی طرح لاہور کی اہم شخصیت ثابت ہو گا۔ اپنے وقت کا مشہور پہلوان جھارا پہلوان اسلم پہلوان کا بیٹا، بھولو پہلوان کا بھتیجا، امام بخش

پہلوان کا پوتا اور گاما کلو والا پہلوان کا نواسا تھا۔ 17جون 1979کو اس نے جاپان کے مشہور پہلوان انوکی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس کشتی میں پانچ رائونڈ کے بعد انوکی نے جھارا پہلوان کے ہاتھ کو اوپر اٹھا کر اسے فاتح قرار دے دیا تھا۔ وہ بھی غریبوں کے مابین سخی اور ان داتا کے القاب سے جانا جاتا تھا۔ اسی طرح نوید لمبی والا، بھولا سنیارا ، ہمایوں گجر، ناجی بٹ، اعظم بٹ، مناظر علی شاہ ، ثنا گجر، داد ناصر، لبھا چھوٹی والا ، قیصر بٹ ، اسد پرنس اور طاہر پرنس وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے وہ غریب لوگوں کے ساتھ خاصی ہمدردی رکھتے تھے ۔ ان کا

حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور بہت سے غریب خاندان کی کفالت کرنا اپنے فرض سمجھتے تھے ان کی موت سے ایک نہیں سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے۔ ایک طرف تو ان پر قتل، بھتہ خوری اور بدمعاشی کے الزامات عائد ہوئے کہ وہ بڑے بڑے امرا، رئوسا، فیکٹری مالکان اور سیٹھوں سے جگا وصول کرتے تھے۔ دوسری جانب شہر میں چوہداراہٹ کا تنازع، خاندانی رنجش اور پرانی دشمنیاں ایک بار پھر سر اٹھانے لگی ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران چوہدراہٹ کے تنازع پر ہوئی تلخ کلامی پر بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ قتل و غارت کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ہومی سائیڈ سیل ملزمان کی گرفتاری میں ناکام رہے ہیں۔ تھانوں کے انچارج انویسٹی گیشن نے ہومی سائیڈ سیل کے تفتیشی افسروں پر ملبہ ڈال کر اپنی جان چھڑالی۔ قتل و غارت کے 30سے زائد واقعات میں 52سے زائد ملزمان کو پولیس گرفتار نہ کر سکی۔