Web
Analytics
سنگینی حالات اور حکمرانوں کی نزاکتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / سنگینی حالات اور حکمرانوں کی نزاکتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

سنگینی حالات اور حکمرانوں کی نزاکتیں ۔۔۔ تحریر: افتخار بھٹہ

پرانے قرضوں کے جرموں پر تحریک انصاف کے راہنما ہر وقت شور مچاتے رہتے ہیں جبکہ وہ نئے قرضوں کے حصول پر جشن مناتے ہیں اور عوام کو یہ خوشخبریاں دیتے ہیں کہ ان کی حکومت پر عالمی مالیاتی اداروں اور اسلامی برادر ممالک کا اعتماد ہے لہذا اسی لیے انہیں قرضے دیئے جا رہے ہیں مہنگائی کا سونامی تباہی اور بربادی پھیلا رہا ہے لیکن حکمرانوں کو اذیت ناک مہنگائی سے کوئی غرض نہیں ہے بلکہ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے عوام کی زندگیاں برباد کرنے والی کرپشن کے خلاف تاریخی مہم چلائی ہوئی ہے جس کہ نتیجہ میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت جیلوں میں بند ہے دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی بھی کام رشوت دینے کے بغیر نہیں کروایا جا سکتا یہاں پر بعض محکموں کے لوگ دفتر میں محض حاضری لگوانے

آتے ہیں جبکہ کام کے پیسے لیتے ہیں جبکہ سیاسی تحریک اور رجحان کو تابع کرنے کا عمل جاری ہے اس تسلط کو مسلط کرنے کے جنون سے ملک میں ستایت کا آ سیب چھا رہا ہے ۔مروجہ سیاست کے کھلاڑیوں کیلئے اب تنقید کا ہاشیہ سکڑ گیا ہے لیکن چونکہ یہ حکمران طبقات کے ہی مختلف دھڑے ہیں اس لیے یہاں حاکمیت کو ان سے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے، پھر بھی نواز شریف، آصف علی زرداری اور رانا ثناء اللہ کی گرفتاریاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملک کے حکمران طبقات کے دوران تضادات موجود ہیں جس کا اظہار مختلف میٹنگوں ، جلسوں اور ریلیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے لیکن ان تمام سیاسی سر گرمیوں کو میڈیا پر نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ویسے بھی عوام کو مظاہروں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے کیونکہ ماضی میں جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ان سے عوام کو فائدہ نہیں ہوا ہے جبکہ مختلف خاندادوں سے تعلق رکھنے والے افراد نئی جماعتوں کے ٹائٹل کے ساتھ اقتدار میں آ جاتے ہیں یہی صورتحال سینیٹ کے اراکان کے بارے میں ہے جو کہ ہر مرتبہ سینیٹر بننے کیلئے نئی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس کا ٹکٹ لے کر سینیٹ کے ممبر بن جاتے ہیں ان لوگوں کی کوئی نظریاتی سمت یا کسی پارٹی کے ساتھ وابستگی نہیں ہوتی ہے اور یہ محض سرمایہ کے زور پر ٹکٹیں حاصل کرتے اور سینیٹر بن جاتے ہیں حالیہ سینیٹ میں چیئر مین کیخلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی وجہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن جمعیت علماء اسلام سینیٹر کی کلا بازی ہے جنہوں نے 64ارکان میں شامل ہو کر اس تحریک کی حمایت کی لیکن چند ہی منٹوں بعد سارا منظر تبدیل ہو گیا یہ لمحہ ہماری سیاسی پارٹی کیلئے یہ بہت بڑا لمحہ فکر یہ ہے پارٹی کے

مختلف انتخابات کے دوران اپنے سیاسی کارکنوں کو نظر انداز کر کے دوسرے مالدار لوگوں کو ٹکٹ جاری کر دیتی ہیں ایسی صورتحال میں ایسے ہی نتائج سامنے آ سکتے ہیں بہر صورت اس انتخاب میں اپوزیشن کو بڑی حزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ پیپلز پارٹی ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کی سیٹ کو بچانے میں کامیاب رہی ہے اس کے پچھے کیا کہانی ہے اس کے بارے میں سر دست کچھ کہنا ممکن نہیں ہے سینیٹ میں چیئر مین کی تبدیلی سے عوام کو کچھ فرق نہیں پڑنا تھا اور نہ ہی ان کے حالت زار تبدیل ہونی تھی محض یہ اپوزیشن اور حکومت کیلئے ایک پوائنٹ سکورنگ کا مسئلہ تھا کہ کس طرح ایک دوسرے کو سیاسی طور پر نیچا دکھایا جا سکے بہر صورت یہ عمل مکمل ہو چکا ہے ۔ ایک سیاسی کارکن کے ناطے سے میں سمجھتا

ہوں ہماری اپوزیشن اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے بہر صورت اس تحریک عدم اعتماد کے نتیجہ میں آنے والا فیصلہ انتہائی معنی خیز ہے کہ کس طرح مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے کس نے منصوبہ بندی کی اور بظاہری طور پر اکثریت میں نظر آنے والی اپوزیشن اقلیت میں تبدیل ہو گئی ۔سینیٹ میں محاذ آرائی کا سلسلہ تقریبا ختم ہونے کو ہے جبکہ ملک کے اصل مسائل ابھی حل طلب ہیں ملک میں غربت تعلیم ، صحت، بے روز گاری ، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام پریشان ہیں حکومت صرف احتساب کے ذریعے ملک کے معاشی معاملات کو حل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جبکہ اپوزیشن کا نقطہ نظر اس سے جدا ہے وہ سمجھتی ہے کہ معیشت

کا پہہ چلائے بغیر ان مسائل کا حل ممکن نہیں ہے اس کے علاوہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں مگر ان کو میڈیا میں مناسب پذیرائی نہیں ملتی ہے اور ان کی سفارشات پر کوئی غور کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور نہ ہی ان کا موقف کبھی میڈیا پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ وہ ملک کے چند ایک بائیں بازو کے اور تھینک ٹینکس ہیں جو کہ سائنسی حوالے سے سوچتے ہیں ان کے نزدیک جمہوریت اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جبکہ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے مگر بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کی نمائندگی کرنے والے بیشتر افراد کا تعلق جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقات سے ہے جو کہ روایتی طور پر عوام کے مسائل کے حل کے بارے میں نہیں سوچ سکتے ہیں ان طبقات کے قیام پاکستان سے

بعد سے بر سر اقتدار رہنے کے باوجود ملک میں صنعتی ترقی زوال پذیر ہے ویسے بھی پاکستان کی معیشت ہمیشہ سے پسماندہ ترقی پذیر ممالک کے تقاضوںکے مطابق پیچھے رہی ہی گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل صنعتی ترقی کی شرح گرتی جا رہی ہے مینو فیکچرنگ شعبے کی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی ہے ۔ معیشت تیزی سے سکڑ رہی ہے پاکستان میں ڈی انڈسٹری لائزیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے ایف بھی آر کے چیئر مین شبر زیدی کے بقول پاکستان میں مینو فیکچر کی ترقی کو ترجیح دینے کی بجائے تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے جس سے خدمات کے شعبے ، ٹریڈنگ ، پیکنگ ، انشورنس ، موبائل کمپنیاں اور مختلف ایشیا کی درآمدات اور ان کی پیکنگ اور ٹریڈنگ کے ذریعے سیل کرنا شامل ہے جس سے منافع

تو ملتا ہے مگر حقیقی سرمایہ تشکیل نہیں پا سکتا ہے جس کو صنعتوں میں لگانے سے جدیت کا عمل تکمیل میں آئے اور ہماری مصنوعات ویلیو ایڈیٹ ہونے سے برآمدات میں اضافہ کا باعث بن سکیں یاد رہے کہ دنیا میں تمام ممالک میں برآمدات کے ذریعے ترقی کی ہے جبکہ پاکستان میں یہ عمل تنزل پذیر ہے سی پیک اور چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کے عمل کو سست ہو چکا ہے جبکہ چینی مصنوعات کی آمد سے بڑے پیمانے پر پاکستانی صنعتیں بند ہو رہی ہیں ملک میں درمیانے اور چھوٹے طبقے کی صنعتیں اور کاروبار سے سب سے زیادہ دو چار ہیں مہنگائی سے عام آدمی کی قوت خرید کم ہوئی ہے جن کا خریدار غریب اور درمیانے درجے کے لوگ ہیں خریدتے ہیں جبکہ امیر لوگ امپوٹڈ مصنوعات خریدتے ہیں غریب طبقات کی قوت

خرید کم ہونے سے چھوٹی صنعتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں کیونکہ ان کو مالیاتی اداروں سے قرضہ جات کی سہولت نہیں حاصل ہوتی ہے جس کیلئے پراپرٹی اور دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے ان کا روبار دکانداروں کے ساتھ ادھار لین دین پر چلتا ہے جب مارکیٹ میں گاہک ہی نہیں ہونگے تو ان کو کس طرح بلوں کی ادائیگی ہو سکے گی لہذا ان کی وصولیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سیکٹر انتہائی پریشان ہے دوسری طرف ان پر ایف بی آر کی طرف سے فائلر بننے کا دبائو بھی ہے جس کیلئے ٹیئر ون اور ٹیئر ٹو کی تجاویز پیش کی گئی ہیں دکاندار اور کسٹمر دونوں ہی خریداری کیو قت شناختی کار نہیں دینا چاہتے ہیں اس حوالے سے ملک کے تجارتی حلقے دوبارہ ہڑتال کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔پاکستان کا معاشی

بحران جہاں پر زیادہ قرضے لینے اور ان کے استعمال میں بد انتظامی سے ہے وہاں پر فری مارکیٹ اکانومی کے تحت ضرورت سے زیادہ درآمدات نے ہماری مقامی صنعتوں اور کاروبار کر متاثر کیا ہے دوسرے ملک کے بعض طبقات ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہے بظاہری طور پر پاکستان کا ہر شہری بلاوسطہ ٹیکس ادا کر رہا ہے مگر وہ شائد سرکاری خزانے میں نہیں پہنچ پا رہا ہے، یاد رہے کہ ٹیکس کسی ریاست کو چلانے کیلئے انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ اس سے ریاستی آخراجات پورے کیے جاتے ہیں اور کم وصولی کی شکل میں انکو قرضہ جاتی سے پوراکیا جاتا ہے اس طرح پاکستان میں ٹیکسوں کی عدم وصولی کے حوالے سے بھی بحرانی کیفیات موجود ہیں۔عالمی معاشی بحران اور ترقی یافتہ ممالک میں قوت خرید میں کمی کے باعث

ڈیمانڈ کی کمی کے پاکستانی برآمدات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں پاکستان اکنامکل ویو کے مطابق جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ کم ہو کر 13%آ پہنچا ہے جس میں کمی کا رجحان گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے آئندہ مالی سال میں یہ 11%سے گر جائے گی بڑی مینو فیکچرنگ -2.06%ریکارڈ کی گئی ہے صنعتی شعبے کی پیدا واری قیمت ڈالر کی قیمت بڑھنے سے انتہائی زیادہ ہو گئی ہے جس سے تیاری کی لاگت بہت بڑ گئی ہے یاد رہے کہ پبلک سیکٹر میں ملکی صنعت کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے اگر عمران خان پچاس مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کے کو عملی شکل دیتے ہیں تو اس سے یقینا تعمیراتی سامان تیار کرنے والے صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ عوام کو روز گار بھی میسر ہو گا ۔یہ عجیب بات ہے کہ

پاکستان میں جب بھی صنعتی ترقی کی بات ہوتی ہے تو مقامی سرمایہ دار ٹیکس میں رعایت یا سبسڈیاں دینے پہنچ جاتے ہیں ہر حکومت ان کے مفادات کی نگہداشت کرتی ہے انہیں نوازا جاتا ہے ہر نئی حکومت سے قرضے معاف کروائے جاتے ہیں مہنگی بجلی کا رونا رویاجاتا ہے جبکہ بلاواسطہ ٹیکسوںکا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے آج بھی ہم ایسی صورتحال سے دو چار ہیں پیپلز پارٹی کے حامی بلاول کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کوئی رائے ونڈ کی طرف دیکھ رہا ہے اور کوئی بنی گالا کو خوش کرنے کے جتن کر رہا ہے کوئی وشنگٹن کی نظروں میں جگہ پانے کیلئے امریکہ جا پہنچتا ہے کوئی فضل الرحمان کی طرح سٹریٹ پاور استعمال کر کے حکومت کو گرانا چاہتا ہے لیکن مولانا کو پہلی ناکامی سینیٹ کے چیئر مین کو ہٹانے میں ہوئی ہے ہر طرف انتشار کا عالم ہے معیشت کو سدھارنے کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ہمارے حکمرانوں کو سیاسی انتشار کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور معاشی اور صنعتی منصوبہ بندی کیلئے پلاننگ کر کے ملک کو ترقی کو ترقی کی راہوںپر ڈالنا چاہیے۔