Web
Analytics
پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ۔۔۔ تحریر: خالد خان – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ۔۔۔ تحریر: خالد خان

پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ۔۔۔ تحریر: خالد خان

پی ٹی آئی حکومت نے پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میںاضافہ غریب لوگوںپر بم گرانے کے مترادف سمجھاجاتاہے۔آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز کی ستر فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے زیست بسر کررہی ہے۔لوگوں کیلئے دو وقت کا کھانا مُحال ہوگیا ہے۔لوگ سابق حکمرانوں سے انہی باتوں کی وجہ سے نالاں تھے ۔سابق حکمران بھی ہر ماہ کے آغاز پر لوگوں پر مہنگائی کے بم گراتے رہے اور ساتھ ان کے زخموں پر نمک بھی چھڑکتے رہے ۔کہتے تھے کہ اس سے عام آدمی پر اثر نہیں ہوگا ۔۔۔؟ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان کہا کرتے تھے کہ ” ڈیزل عام آدمی استعمال کرتا ہے ۔اگر ڈیزل مہنگا ہوجائے تو ساری چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔ڈیزل کی قیمت اڑتیس روپے ہونی چاہیے۔ اگر

ڈیزل کی قیمت اڑتیس روپے پر لے آئیں تو ہر چیز کتنی نیچے آجائے گی۔عمران خان نے دھرنے میںیہ بھی کہا تھاکہ میں مہنگی بجلی کیوں خریدوں؟ میں اس لیے بجلی کا بل جلا رہاہوں۔پٹرول پر حکومت50فی صد ٹیکس لے رہی ہے۔ یہ آپ کی جیب سے جاتا ہے۔ جبکہ اسد عمر کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکسز پٹرولیم منصوعات پر لگایا گیا ہے۔ ڈیزل پر ایک سو فی صد ٹیکس، مٹی کے تیل پر62فی صد ٹیکس، حکومت 19روپے فی کلو چینی پر ٹیکس لے رہی ہے۔30فی صد کھانے پکانے کے تیل پر ٹیکس لیا جارہا ہے ۔پچھلے چھ ماہ میں پندرہ سے سولہ روپے کی قدر گرگئی ہے۔صرف روپے کی قدر گرنے سے اس وقت گذشتہ چھ مہینے میں ہر پاکستانی خاندان کی اوپر چالیس ہزار روپے قرض کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔” یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان اور اسد عمر پہلے درست فرماتے تھے یا اب ٹھیک کررہے ہیں۔۔۔؟حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور لوگوں کی زندگیاں کتنی اجیرن ہیں ۔ آپ اس سے مُلا حظہ فرمائیںکہ وزیراعظم عمران خان کے آبائی حلقے میںایک چھوٹا سا قصبہ کالاباغ ہے۔یہ ضلع میانوالی کا ایک تجارتی قصبہ ہے۔مضافاتی دیہات بلکہ ضلع میانوالی کے اکثر علاقہ جات کے لوگ سودا سلف کیلئے اسی شہر کا رخ کرتے ہیں۔ خاکسار2010ء تک تقریباً مغرب کی نماز کے فوراً بعد کھاناکھاکر ایک رفیق کے ہمراہ چائے پینے تنگ بازار جاتاتھا۔ جہاں پر ایک اور دوست جس کی کریانہ کی دکان ہے۔ہم تینوں دوست چائے پینے سے لطف اندوز ہوتے تھے اور ساتھ گپ شپ بھی لگاتے تھے۔وہ دوست صاحبِ علم تھے تو مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔دکاندار دوست ساتھ ساتھ اپنے گاہگوںپر اشیاء خردونوش بھی فروخت کرتا رہتا

تھا۔ وہاں پر زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی تھی کہ بہت سے افراد عشاء کے نماز کے قریب آتے تھے اور مشکل سے ایک یا آدھا کلو آٹا خریدتے تھے۔مدعا یہ ہے کہ جب ایک شخص 2010ء میں ایک کلو آٹا مشکل سے خریدتا تھا اور اب اس کی حالت کیا ہوگی؟جس شخص کو دو وقت کا کھانا ملتا ہو اس کو بھوک کا اندازہ نہیں ہوتا ہے۔بھوک کا اندازہ صرف بھوکا ہی لگا سکتا ہے۔یقینا وزیراعظم عمران خان کو غریبوں کا احساس ہوگا۔وہ اکثر ریاست مدینہ کی بات بھی کرتے ہیں۔تاجدارِ مدینہ اور ان کے رفقاء کی حالت یہ تھی کہ غزوہ خندق کی کھدائی کے دوران صحابہ کرامؓ نے پیٹ پر ایک ایک پتھر باندھا تھا جبکہ حضور کریم ﷺ نے دو پتھر باندھ رکھے تھے۔یقینا اس وقت پاکستان کی معاشی حالت درست نہیں ہے۔ معاشی حالت کو درست

کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن وزیراعظم اوران کے ٹیم کو سرکاری تنخواہ اور دیگر مراعات نہیں لینی چاہییں اورایسے اقدامات سے قطعی گریز کرنا چاہیے جس سے غربت میں مزید اضافہ ہو۔ غربت کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈالنا دانش مندی نہیں ہے۔پاکستان میں کاغذی کاروائی میں” ہوـا”کے سوا ہر چیز پر ٹیکس ہے۔ہوسکتا ہے کہ “ہوا” پر بھی ٹیکس ہو لیکن اس کو کاغذوں میں دکھایا نہیں جارہا ہے۔بچوں کے کھانے کی چیزوں سے لیکر ہر چیز پر ٹیکس ہے اور بعض چیزوں پر مختلف ناموںسے کئی کئی ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ مثلاًآپ بجلی کے بل دیکھیں،اس میں مختلف ٹیکس لیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً پچاس اقسام کے ٹیکس لیے جارہے ہیں۔ پاکستانی لوگ ٹیکس دیتے ہیں لیکن

آوٹ پٹ زیرو ہے۔دنیا کے دوسرے ممالک میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں لوگوں کو سہولیات بھی ملتی ہیں۔ آپ پاکستان کے دو بڑے شہرکراچی اور لاہور کو دیکھیں۔کراچی کے لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے ترستے ہیں۔اسی طرح پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی بڑی تعداد پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ شہری موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں میں پینے کے صاف پانی کی تلاش میں دربدر ہیں، کھبی ایک فلٹر پمپ پر جاتے ہیں تو کھبی دوسرے فلٹر پمپ پر جاتے ہیں۔اس سے نہ صرف پٹرول ضائع ہوجاتاہے بلکہ وقت بھی صرف ہوجاتاہے۔حکومت ان دو بڑے شہروں کے ہر چھوٹے بڑے محلے یا ٹائونز وغیرہ میںواٹر سپلائی کے پائپ لائنوں کے ذریعے گھر گھر پینے کا صاف پانی فراہم کرکے مناسب چارجز لے

لیا کریں اور اس سے نہ صرف شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمت کے مواقع مل جائیں گے۔اسی طرح کراچی اور لاہور میں صفائی کی حالت ابتر ہے۔جس ایریا میںایلیٹ طبقہ رہتا ہے ،وہاں پر صفائی سمیت ہر چیز درست ہے لیکن جہاں عام لوگ رہتے ہیں ،وہاں پانی اور صفائی سمیت کسی چیز کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ طبقاتی نظام ہی نقصان کاباعث ہے۔وزیراعظم عمران خان کے آبائی حلقے ضلع میانوالی کے خٹک بیلٹ میں انسان حیوان ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔قارئین کرام!وزیراعظم عمران خان اور اس کی حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافے نہ کریں کیونکہ اس سے غریب آدمی بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے اور غریبوں کی حالات انتہائی ابترہے۔