Web
Analytics
اگر امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر ساتھ نہ دیا تو افغان عمل کیلئے پاکستان سے کوئی امید نہ رکھے، ٹرمپ انتظامیہ کو دوٹو ک پیغام دیدیا گیا – Lahore TV Blogs
Home / پاکستان / اگر امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر ساتھ نہ دیا تو افغان عمل کیلئے پاکستان سے کوئی امید نہ رکھے، ٹرمپ انتظامیہ کو دوٹو ک پیغام دیدیا گیا

اگر امریکہ نے مسئلہ کشمیر پر ساتھ نہ دیا تو افغان عمل کیلئے پاکستان سے کوئی امید نہ رکھے، ٹرمپ انتظامیہ کو دوٹو ک پیغام دیدیا گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)امریکا افغانستان میں امن لانے کے لیے پاکستان کے کردار سے بخوبی واقف ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے طالبان سے افغان حکومت سے مذاکرات کی درخواست کی تھی جو کہ امن عمل کے لیے بڑا اقدام تھا جب کہ افغان طالبان نے بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام کے بعد اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا ہے،جہاں امریکہ کو افغان عمل میں پاکستان کی ضرورت ہے وہیں پاکستان

کو بھی مسئلہ کشمیر پر امریکا کی حمایت کی ضرورت ہے،اس حوالے سے سینئیر صحافی صابر شاکر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے اقوام متحدہ میں کشمیری قرار داد ویٹو کر دی تو افغانستان میں امن کے لئیے پاکستان سے کوئی امید نہ رکھے۔۔جب کہ دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کا کہنا ہے کہ امریکا کو امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا پر کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ازسر نو تعمیر ہوجائیں گے. پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیکل پومپیو نے باہمی تجارت کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت کا بھی تذکرہ کیا جو دونوں ممالک میں خوشحالی لائے گی۔سیکرٹری اسٹیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے اس طرح کے پیغامات عموماً رسمی طور پر پہلے سے تیار کردہ ہوتے ہیں جس میں جشن آزادی منانے والے اقوام کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار سے زیادہ کوئی پیغام نہیں ہوتا. تاہم مائیک پومپیو نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعلقات کی تعمیر نو کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے اسلام آباد کو یاددہانی کروائی کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا کے دوران اس کا سنگِ بنیاد رکھا جاچکا ہے. تاہم مائیک پومپیو نے یہ نہیں بتایا کہ دورہ امریکا کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں کیا معاملات زیر بحث آئے لیکن انہوں نے یہ یاد دہانی کروائی کہ سالوں سے امریکا اور پاکستان نے ایک ساتھ کام کر کے بہت کچھ حاصل کیا ہے. ان کے بیان میں پاکستانی عوام کے لیے پرجوش مبارکباد بھی شامل تھی البتہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جس کے باعث جنوبی ایشیا میں دو جوہری طاقتوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوگیا

ہے. واشنگٹن میں موجود غیر جاندار مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ پاکستان کی جناب سے امریکا کوطالبان کے ساتھ امن معاہدے کے سلسلے میں فراہم کی جانے والی معاونت پر اثر انداز ہوسکتا ہے. امریکا میں موجود پاکستانی سفیر اسد مجید نے ایک انٹرویو میں اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ بھارت نے نہ صرف کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا ہے بلکہ جنگ بندی کی حد کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی بھی تعینات کردیے ہیں.