Web
Analytics
ایف اے ٹی ایف اجلاس، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا معاملہ، ایشیا گروپ کے تمام ارکان نے پاکستان کی حمایت کردی، بھارت ہاتھ ملتارہ گیا – Lahore TV Blogs
Home / اہم خبریں / ایف اے ٹی ایف اجلاس، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا معاملہ، ایشیا گروپ کے تمام ارکان نے پاکستان کی حمایت کردی، بھارت ہاتھ ملتارہ گیا

ایف اے ٹی ایف اجلاس، پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا معاملہ، ایشیا گروپ کے تمام ارکان نے پاکستان کی حمایت کردی، بھارت ہاتھ ملتارہ گیا

آسٹریلیا(نیوز ڈیسک) ایف اے ٹی ایف کا آسٹریلیا میں اجلاس شروع ہو گیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کو اپنی تیسری کارکردگی رپورٹ پیش کر دی ہے۔پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کی فہرست پیش کی ۔450 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 21 نکات پر عملدرآمد کی تفصیل پیش کی گئی۔اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کر رہے ہیں۔اجلاس میں پاکستان کی 21 نکاتی کارکردگی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس اجلاس میں بڑی خوشخبری ملی ہے جبکہ بھارت کو

پھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ایشیا بحر الکاہل گروپ نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور اقدامات کو بہترین قرار دے دیا۔ایشیا بحر الکاہل گروپ کے تمام ارکان نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔گروپ میں بھارت کی پاکستان مخالف منفی سرگرمیاں جاری رہیں۔خیال رہے متحدہ عرب امارات نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت کا فیصلہ، کیا تھا۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور اماراتی ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا، عمران خان نے ایف اے ٹی ایف معاملے پر پاکستان کی حمایت پر یو اے ای کو سراہا۔جب کہ امریکا نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کالعدم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف مزید ٹھوس اور اطمینان بخش اقدامات کرے تاکہ زیادہ ممالک اس فہرست سے نکلنے کے لیے اس کی حمایت کریں۔وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکی وفد کو یقین دلایا تھا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ کوشش کررہی ہے۔مشیر برائے خزانہ نے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔