Web
Analytics
سندھ کے شہر دادو میں پیر صاحب کی بلی کا مزار بن گیا، عقیدت مند حاضری دینے لگے، بلی میں کیا خاص بات تھی، حیرت انگیز تفصیلات – Lahore TV Blogs
Home / دلچسپ و عجیب / سندھ کے شہر دادو میں پیر صاحب کی بلی کا مزار بن گیا، عقیدت مند حاضری دینے لگے، بلی میں کیا خاص بات تھی، حیرت انگیز تفصیلات

سندھ کے شہر دادو میں پیر صاحب کی بلی کا مزار بن گیا، عقیدت مند حاضری دینے لگے، بلی میں کیا خاص بات تھی، حیرت انگیز تفصیلات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبہ سندھ کے شہر دادو سے تقریباً 70 کلومیٹر دور”مرشد دی بلی“ کا مزار بنا دیا گیا ۔یہ بلی پیر گجی شاہ کی تھی جس کے مزار پر بہت سے لوگ آکر حاضری دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 1690ءکے دوران سندھ میں پیر شاہ کلہورو خاندان میں ایک مذہبی رہنماءاور ملٹری کمانڈر تھے ۔پیر شاہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور پنجاب میں بہت شہرت رکھتے ہیں اور ان کی یاد میں عرس بھی منایا جاتا ہے۔ مزار کے ایک خدمتگزار منظور حسین کھوسوکے مطابق ”گجی شاہ نے مقامی لوگوں کی حملہ آوروں سے حفاظت کرتے ہوئے

اپنی جان دیدی۔ ضلع دادو کی پہاڑیوں میں جان دینے کے بعد ان کا اونٹ جسد خاکی کو لے آیا۔“گجی شاہ کے مرید ان کے اونٹ کو بھی مقدس مانتے ہیں لیکن بلی کی اپنی ایک کہانی ہے۔ روایات کے مطابق گجی شاہ بلی سے بہت پیار کرتے تھے اور وہ ان کیساتھ چلتی تھی۔ وہ اپنے آقا کی سخت آواز پر رک گئی اور موقع پر ہی مر گئی۔ گجی شاہ کے مرید ناصرف ان کے اونٹ کا عرس مناتے ہیں بلکہ بلی کا عرس بھی منایا جاتا ہے۔خدمت گزار نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم ہر اس چیز کا احترام کرتے ہیں اور اس سے پیا رکرتے ہیں جو گجی شاہ کے قریب رہی لیکن تعلیم کی کمی کے باعث بہت سے لوگ بلی کی قبر کے سامنے جھکتے بھی ہیں حالانکہ انہیں ایسا کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔یہ بلی جنوں کی بادشاہ کے طورپر بھی مشہور تھی اور بہت سے لوگ جنوں بھوتوں سے چھٹکارے کیلئے بھی یہاں آتے ہیں۔ کھوسو نے بتایا کہ جن لوگوں پر جن حاوی ہو جاتے ہیں وہ علاج کیلئے یہاں آتے ہیں۔ ایسے لوگ مزار کے احاطے میں سوراندو (مقامی آلہ موسیقی) کی دھن پر اپنے سروں کو زور زور سے اس وقت تک گھماتے رہتے ہیں جب تک ہوش و ہواس نہ کھو بیٹھیں۔بے ہوشی کے عالم میں مذہبی رہنماءکی رحمت سے ان کی مدد ہوتی ہے۔ادھرریسرچ سکالر عزیز کنگرانی اس حوالے سے مختلف خیالات رکھتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ پیر گجی شاہ درویش نہیں تھے۔ غازی کھوسو الیاس گجی شاہ کو اس وقت کے کلہورو حکمران میاں ناصر محمد کلہورو نے بلوچستان کے ساتھ سندھ کی سرحد کی حفاظت کیلئے تعینات کیا تھا۔ غازی 1691ءمیں خضدار کے بروہی قبیلے اور کلہورو فوج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں مارے گئے جس کے بعد انہیں یہاں دفنایا گیا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ گجی کو شاہ کا خطاب کلہورو خاندان کی جانب سے دیا گیا تھا جبکہ خاندان کے مشہور حکمران میاں غلام شاہ کلہورا کو بھی شاہ کا خطاب دیا گیا تھا۔بلی کے مزار پر جن بھوتوں سے چھٹکارے کی رسومات کے حوالے سے کنگرانی کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ ہسٹیریا سمیت بہت سی بیماریوں کا شکار ہیں جو یہ سوچ کر مزار آتے ہیں کہ ان پر جنوں کا اثر ہو گیا ہے اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ شاہ کی رحمت سے انہیں مدد ہو جائے گی۔