Web
Analytics
انتہا پسند مودی کو ایک اور اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ – Lahore TV Blogs
Home / انٹرنیشنل / انتہا پسند مودی کو ایک اور اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ

انتہا پسند مودی کو ایک اور اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ

لاہور(نیوز ڈیسک) کچھ بھی کہو یہ بات تو ماننا پڑے گی کہ مکار ہندو کی لابی بہت مضبوط ہے۔وہ انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر ہندوستان کا چہرہ صاف ستھرا اور بہترین ثابت کرنے کے لیے ایسی چال چلتے ہیں کہ سب کو اپنا گرویدہ کرلیتے ہیں۔یہ ان کی سفارتی کامیابیاں ہی ہیں کہ جہاں بھارت ایک طرف دنیا کی سب سے بڑ جیل بنا چکااور انسانیت سوز مظالم رقم کررہا ہے اور وہیں دوسری طرف بڑے بڑے سول ایوارڈاو انسانیت کا علمبردار ہونے کے ٹائٹل بھی اپنے نام کروا رہا ہے۔امارات اور بحرین کے بعد ان بل گیٹس فاؤنڈیشن بھی مودی کو اعزاز سے نوازنے کے لیے تیار ہو چکی ہے۔ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے بھارتی وزیراعظم

نریندر مودی کو بھارت میں حفظان صحت کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے پر ایوارڈ سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی وزیراعظم کو یہ ایوارڈ ان کے ‘صاف بھارت مشن’ پروگرام کی بناء پر دے رہا ہے جس کے تحت بھارت بھر میں لاکھوں ٹوائلٹس بنائے گئے۔تاہم فاؤنڈیشن کے اس فیصلے پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے جنوبی ایشیا و امریکی دانشوروں، وکلاء اور سماجی کارکنوں کی جانب سے ایک پٹیشن فائل کی گئی ہے جس میں گیٹس فاؤنڈیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے کیوں کہ جس شخص کو وہ ایوارڈ دینا چاہتے ہیں اس کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ‘ایک ایسے شخص کو انسانیت کا ایوارڈ دینا سمجھ سے بالاتر ہے جسے گجرات کے قصاب کے نام سے جانا جاتا ہے’۔اس پٹیشن پر تقریباً ایک لاکھ افراد اب تک دستخط کرچکے ہیں، پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ مودی کو ایوارڈ دینے کا اس سے بدتر وقت نہیں ہوسکتا کیوں کہ ایک جانب بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن ہے تو دوسری طرف ریاست آسام میں تقریباً 20 لاکھ لوگوں کو شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے گیٹس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ وہ نریندر مودی کو ایوارڈ سے نوازنے کے فیصلے پر قائم ہے کیوں کہ یہ اس کے اقوام متحدہ کے مستحکم ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے مہم کا حصہ ہے۔فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ صاف بھارت مشن سے قبل بھارت میں 50 کروڑ لوگوں کو صفائی کی بہتر سہولتیں میسر نہیں تھیں لیکن اب اکثریت کو یہ سہولت حاصل ہے۔فاؤنڈیشن کے اس بیان پر بھی ناقدین نے تنقید کی اور کہا کہ صفائی ستھرائی اور حفظان صحت سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔