Web
Analytics
مردِ آزاد۔۔۔ تحریر: ہارون الرشید – Lahore TV Blogs
Home / منتخب کالم / مردِ آزاد۔۔۔ تحریر: ہارون الرشید

مردِ آزاد۔۔۔ تحریر: ہارون الرشید

بہت دنوں کے بعد ایک مردِ آزاد کو دیکھا ۔ بہت دن کے بعد پھر سے یاد آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی متاع آزادی ہے ۔ بہت دن کے بعد اپنے دوست حکمت یار کا یہ جملہ یاد آیا : اللہ کی دنیا کتنی خوبصورت تھی ۔ آدمی نے کتنا اسے بھدّا کر دیا ۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے مجھے لکھا: کتنی بری بات ہے ، وعدہ کر کے کیپٹن طارق سے آپ نہیں ملنے گئے ۔ کیپٹن طارق سے سیکنڈ لیفٹیننٹ ناصر جنجوعہ کی ملاقات 1977ء میں ہوئی تھی ۔ اس ناچیز سے 2011ء میں بے تکلفی ایک سی ہے۔ جنرل صاحب سے عرض کیا، معافی چاہتا ہوں ، بھول گیا تھا ۔ کیپٹن صاحب کو فون کیا ، معذرت کی اور وعدہ کیا کہ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا ۔ ابھی ابھی ان سے مل کر لوٹا ہوں اور دل شاد ہے ۔ بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر ابھی کچھ

لوگ باقی ہیں جہاں میں نواحِ اسلام آباد میں بختاور چٹھہ نامی گائوں میں کیپٹن صاحب ایک سکول چلاتے ہیں ۔ نمازِ جمعہ ان کے ساتھ پڑھی اور دوپہر کا کھانا کھایا ۔ 20برس ہوتے ہیں ، جنرل حمید گل کے ساتھ خوشاب کے ایک گائوں میں جانا ہوا، ایک درویش کی بارگاہ میں ۔ ایسا ہی ایک خوبصورت دن تھا، ایسی ہی دوپہر ۔ برسات کی بارشوں نے پوٹھو ہار کو مرغزار بنا دیا تھا اور میرؔ صاحب یاد آتے تھے ۔ گلشن میں آگ لگ رہی تھی رنگِ گل سے میرؔ بلبل پکاری دیکھ کے صاحب پرے پرے حسن کو سادگی میں پرکاری اور میدانوں میں ناہمواری کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تمام پہاڑی اور نیم پہاڑی شہر خوبصورت ہوتے ہیں ۔ الّا یہ کہ آدم کی اولاد آلودہ کر دے ۔ جنرل صاحب نے ایک ڈونگے کا ڈھکنا اٹھایا ، چنے کی دال ۔ پھر دوسرے کی طرف بڑھے ۔ عرض کیا، زحمت نہ کیجیے ، اس میں بھی یہی دال ہوگی ۔ ہریالی سے لدے راستوں سے گزر کر کیپٹن صاحب کے گائوں پہنچے تو وہی منظروہی دن یاد بریانی ایک قاب میں لائی گئی ۔ بہت سے چاول، ذرا سا گوشت ، آلو کے بڑے بڑے ٹکڑے اور الا بلا ۔ 39برس ہوتے ہیں ، ایرانی سفارت خانے والوں نے مدعو کیا ۔انقلاب ایران برپا ہوئے چند ماہ ہی گزرے تھے ۔سادگی اب بھی ہے لیکن اب زعفران کی خوشبو اور رنگ بھی ہوتا ہے ۔ تب چاول سفید تھے ، دال اور شامی کباب ۔ سلیقے سے سب کچھ سجا ہوا ۔ جو کھانے عمر بھر یاد رہیں گے ، ان میں سے ایک ۔ مولانا علی میاںکہا کرتے :سادگی ایمان کی نشانی ہے ۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے لکھا ہے :اصحابِ رسولؓ کا ایک نمایاں وصف ان کی بے ساختگی تھی ۔ تکلف چھو کر نہیں گزرا تھا ۔ ان کے آقاﷺمیں نفاست بہت تھی ۔ کبھی ہاتھ سے خارش نہ کی‘تنکا استعمال کرتے۔عہدِ

جدید کا آدمی مغالطے میں ہے کہ سلیقہ بس اسی میں ہے ۔ صابن اتنی قدیم ایجاد ہے کہ ہزاروں برس پرانے قصے کہانیوں میں ذکر ملتاہے ۔جناب والاؐ کے ایک فرمان میں بھی۔ ایک تازہ ترین سائنسی مطالعہ یہ کہتاہے کہ سیل فون والے ہاتھ میں اتنے ہی جراثیم ہوتے ہیں ، جتنے کہ گٹر میں ۔ روز مرہ کا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے سے کھا نا ۔ قدیم زمانے کے شرفا اس جہالت کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ اس تحقیق کا علم ہوا تو چونک کر یاد آیا کہ سرکارؐ نے طعام سے پہلے ہاتھ دھونے کی کیسی تلقین کی ہے اورخود کیسا اہتمام فرمایا کرتے ۔ 1947ء سے پہلے سر فیروز خان نون برطانیہ میں ہندوستان کے سفیر تھے ۔ ایک نمائشی ساعہدہ لیکن ملکہ ء برطانیہ بہرحال انہیں مدعو کرتیں ۔ کھانے کی میز پر ایک بار انہوں

نے پوچھا : سنا ہے ، ہندوستان میں اب بھی لوگ ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں ؟ نون میں حسِ مزاح بہت تھی اور اعتماد بلا کا ۔ بولے : جی ہاں ، جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کھایا کرتے ۔ بیس برس ہوتے ہیں ، یہ نکتہ مستنصر جاوید نے سجھایا کہ ہاتھ سے چاول کھائے جائیں تو لطف دوبالا۔ حتیٰ الامکان اس کی پیروی کرتا ہوں لیکن ظاہر ہے کہ اس سے پہلے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔ پھر پچیس تیس سیکنڈ کا انتظار کہ خشک ہو جائیں ۔ کیپٹن صاحب کے رفیق نے بریانی کی قاب لا کر رکھی تو مسافر ہاتھ دھونے کے لیے اٹھا ۔ ذرا سے چاول، آلو کا ایک ٹکڑا مگر ایسا لطف کہ سبحان اللہ ۔ بہت سا تازہ سلاد ، دہی کا پیالہ، کھانا یہی ہوتاہے ۔ باقی تکلف ہے اور تصنع ۔ امیر المومنین سیدنا عمر ابنِ خطابؓکھانے میں گوشت پسند کرتے ۔ خلافت

کی ذمہ داریاں آن پڑیں تو جو کی روٹی پر روغنِ زیتون چپڑ کر پانی کا پیالہ پی لیا کرتے ۔ بھوک کا زیادہ شدت سے احساس ہوتا تو ساتھ ہی ستّو پیتے ۔ ایسا ہی ایک دن تھا ، جب قاصد نہاوند سے فتح کی خبر لایا ۔ کھانے کے بعد ایک چھوٹی سی ڈبیا اس نے نکالی اور آپؓ کی خدمت میں پیش کی ۔ کہا : امیر المومنین:حسبِ دستور مالِ غنیمت بانٹا گیا ۔ سرکاری خزانے کا حصہ کوئی دن میں آپہنچے گا ۔ یہ کچھ موتی ہیں ۔ ا س کا مصرف سوجھ نہ سکا تو مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ خطاب کا فرزندؓ برہم ہو کر اٹھا ۔ قاصد اس قدر خوفزدہ کہ بھاگ کھڑا ہوا ۔ خلیفتہ المسلمین ا س کے پیچھے لیکن بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ۔ کبھی ہم ایسے تھے ۔ اب ہمارا اوڑھنا بچھونا ریاکاری ہے ۔ ہمارے گھروں کی

آرائش ریاکاری ، لباس دکھاوا ۔ ساری کی ساری زندگی تصنع سے بھر گئی ۔ جوش ؔملیح آبادی نے کہا تھا :زندگی نہیں ، یہ جینے کی نقل ہے ۔دوسو برس ہوتے ہیں ، امریکی صدر کے نام ریڈ انڈین سردار سیٹل نے لکھا تھا : زندگی ختم ہوئی۔ اب تومحض جینا ہے ۔ کیپٹن طارق کے دسترخوان پر ایک ایک کر کے یہ سب باتیں یاد آئیں ۔ شام بھی تھی دھواں دھواں ، دل بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں دیکھنے کی چیز وہ عجیب وغریب تعلیمی ادارہ ہے ، جو آٹھ برس پہلے کیپٹن صاحب نے آباد کرنا شروع کیا اور اب ا س میں تین سو سے زیادہ طالبِ علم ہیں ۔ 35فیصد بچے اور 65فیصد بچیاں ۔ پہلی سے بارھویں جماعت تک ۔ اس تعلیمی ادارے کی دو خصوصیات ہیں ۔ اوّل اس کے بیشتر طالبِ علم ریڑھی بانوں ،

چھابڑی والوں اور خوانچہ فروشوں کے بچّے ہیں ۔ ثانیاً توجہ پڑھائی لکھائی نہیں بلکہ فکر و نظر پہ ہے ۔ ’’ہم بچّوں کو سوچنا سکھاتے ہیں ‘‘ ٹیلی فون پر انہوں نے کہا تھا ۔ نصاب امریکہ سے تعلق رکھنے والے دو ممتاز ماہرین نے مرتب کیا ہے ۔ تمام عالم اسلام میں جو پڑھایا جاتا ہے ۔ان دو ماہرین میں سے ایک ان کی اہلیہ ہیں ۔ تاجک نژاد امریکی۔ اس کا خاندان ایک زمانے سے ریاست ہائے متحدہ میں آباد ہے۔یہ کہانی پھر کبھی اور تدریس و تربیت کی تفصیل بھی پھر کبھی ۔آج فقط یہ عرض کرنا ہے کہ بہت دنوں کے بعد ایک مردِ آزاد کو دیکھا ۔ بہت دن کے بعد پھر سے یاد آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی متاع آزادی ہے ۔ بہت دن کے بعد اپنے دوست حکمت یار کا یہ جملہ یاد آیا : اللہ کی دنیا کتنی خوبصورت تھی ۔ آدمی نے کتنا اسے بھدّا کر دیا ۔(بشکریہ روزنامہ 92)