Web
Analytics
محافظین تحفظ ختم نبوت وناموسِ رسالت ۔۔۔ مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی – Lahore TV Blogs
Home / اسلام / محافظین تحفظ ختم نبوت وناموسِ رسالت ۔۔۔ مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی

محافظین تحفظ ختم نبوت وناموسِ رسالت ۔۔۔ مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی

نبی پاک ﷺ کی صحبت اختیار کرنے والے کوئی عام حضرات نہیں تھے بلکہ اللہ پاک نے پیارے نبی ﷺ کی صحبت کے لیے انہیں منتخب کیاپھر انہوں نے اس صحبت کا حق اداکیا تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے اداکیا کوئی شاعرنبی ،کوئی محافظ نبی،کوئی کاکاتب وحی ، کوئی مئوذن نبی اور خادم ِ خاص بن گیا مختصراًان خوشنصیب حضرات کا ذکر خیر کیا جارہاہے
دربارِ نبوت کے شعراء
یوں تو بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضورِ اقدسﷺ کی مدح و ثنا میں قصائد لکھنے کی سعادت سے سرفراز ہوئے مگر دربارِ نبوی کے مخصوص شعرا کرام تین ہیں جو نعت گوئی کے ساتھ ساتھ کفار کے شاعرانہ حملوں کا اپنے قصائد کے ذریعہ دندان شکن جواب بھی دیا کرتے تھے
(1) حضرت کعب بن مالک انصاری سلمی رضی اللہ تعالی عنہ جو جنگ تبوک میں شریک نہ ہونے کی و جہ سے معتوب ہوئے مگر پھر ان کی توبہ کی مقبولیت قرآن مجید میں نازل ہوئی۔ ان کا بیان ہے کہ ہم لوگوں سے حضورﷺنے فرمایا کہ تم لوگ مشرکین کی ہجو کرو کیونکہ مومن اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا رہتا ہے اور تمہارے اشعار گو یا کفار کے حق میں تیروں کی مار کے برابر ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت یا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سلطنت کے دور میں ان کی وفات ہوئی ۔
(2) حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری خزرجی رضی اللہ تعالی عنہ ان کے فضائل و مناقب میں چند احادیث بھی ہیں۔ حضورِ اقدسﷺنے ان کو سید الشعراء کا لقب عطا فرمایا تھا۔ یہ جنگ موتہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
(3) حضرت حسان بن ثابت بن منذر بن عمرو انصاری خزرجی رضی اللہ تعالی عنہ یہ دربار رسالت کے شعرا کرام میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ حضور ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ
یا اللہ!حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعہ ان کی مدد فرما ۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب تک یہ میری طرف سے کفار مکہ کو اپنے اشعار کے ذریعہ جواب دیتے رہتے ہیں اس وقت تک حضرت جبریل علیہ السلام ان کے ساتھ رہا کرتے ہیں۔ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر 54 ؁ھ میں وفات پائی۔ ساٹھ برس کی عمر زمانہ جاہلیت میں گزاری اور ساٹھ برس کی عمر خدمت اسلام میں صرف کی۔ یہ ایک تاریخی لطیفہ ہے کہ ان کی اور ان کے والد ثابت اور ان کے دادا منذر اور نگر دادا حرام سب کی عمریں ایک سو بیس برس کی ہوئیں۔(زرقانی جلد 3 ص382 تا 383)
خصوصی مئوذنین
حضورِ اقدس ﷺکے خصوصی مئوذنوں کی تعداد چارہے
( 1)حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالی عنہ
(2)حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ ۔ یہ دونوں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے مئوذن ہیں
(3)حضرت سعد بن عائذ رضی اللہ تعالی عنہ جو سعد قرظ کے لقب سے مشہور ہیں۔ یہ مسجد قبا کے مئوذن ہیں
(4)حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ مکہ مکرمہ کی مسجد حرام میں اذان پڑھا کرتے تھے۔ (زرقانی جلد 3 )
کاتبین وحی
جو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم قرآن کی نازل ہونے والی آیتوں اور دوسری خاص خاص تحریروں کو حضورِ اقدس ﷺ کے حکم کے مطابق لکھا کرتے تھے ان معتمد کاتبوں میں خاص طور پر مندرجہ ذیل حضرات قابل ذکر ہیں
(1) حضرت ابو بکر صدیق (2) حضرت عمر فاروق (3) حضرت عثمان غنی (4)حضرت علی مرتضی (5) حضرت طلحہ بن عبیداللہ (6) حضرت سعد بن ابی وقاص (7) حضرت زبیر بن العوام (8) حضرت عامر بن فہیرہ (9) حضرت ثابت بن قیس (10) حضرت حنظلہ بن ربیع (11) حضرت زید بن ثابت (12) حضرت ابی بن کعب (13) حضرت امیر معاویہ (14) حضرت ابو سفیان۔ (رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین) (مدارج النبوۃ جلد 2ص529تا530)
خصوصی محافظین
کفار چونکہ حضورِ اقدس ﷺکے جانی دشمن تھے اور ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ اگر اک ذرا بھی موقع مل جائے تو آپ کو شہید کر ڈالیں۔ بلکہ بارہا قاتلانہ حملہ بھی کر چکے تھے۔ اس لیے کچھ جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم باری باری سے راتوں کو آپ کی مختلف خوابگا ہوں اور قیام گاہوں کا شمشیر بکف ہو کر پہرہ دیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب کہ یہ آیت نازل ہوگئی کہ
ترجمہ: اللہ تعالی آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔
اس آیت کے نزول کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب پہرہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالی نے مجھ سے وعدہ فرما لیا ہے کہ وہ مجھ کو میرے تمام دشمنوں سے بچائے گا۔ ان جاں نثار پہرہ داروں میں چند خوش نصیب صحابہ کرام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جن کے اسما گرامی یہ ہیں۔
(1) حضرت ابو بکر صدیق (2) حضرت سعد بن معاذ انصاری (3) حضرت محمد بن مسلمہ (4) حضرت ذکوان بن عبدقیس (5) حضرت زبیر بن العوام (6) حضرت سعد بن ابی وقاص (7) حضرت عباد بن بشر (8) حضرت ابو ایوب انصاری (9) حضرت بلال (10) حضرت مغیرہ بن شعبہ(رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین)
خدامِ خاص
یوں تو تمام ہی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم حضور شمع نبوت ﷺ کے پروانے تھے اور انتہائی جاں نثاری کے ساتھ آپ کی خدمت گزاری کے لیے سبھی تن من دھن سے حاضر رہتے تھے مگر پھر بھی چند ایسے خوش نصیب ہیں جن کا شمار حضور تاجدارِ رسالت ﷺکے خصوصی خدام میں ہے۔ ان خوش بختوں کی مقدس فہرست میں مندرجِ ذیل صحابہ کرام خاص طور پر قابل ذکر ہیں
(1)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ : یہ حضورِ اقدسﷺکے سب سے زیادہ مشہور و ممتاز خادم ہیں۔ انہوں نے دس برس مسلسل ہر سفر و حضر میں آپ کی وفادارانہ خدمت گزاری کا شرف حاصل کیا ہے۔ ان کے لیے حضور ﷺنے خاص طور پر یہ دعا فرمائی تھی کہ اے اللہ !اس کے مال اور اولاد میں کثرت عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کی ان تین دعائوں میں سے دو دعائوں کی مقبولیت کا جلوہ تو میں نے دیکھ لیا کہ ہر شخص کا باغ سال میں ایک مرتبہ پھلتا ہے اور میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھلتا ہے۔ اور پھلوں میں مشک کی خوشبو آتی ہے۔ اور میری اولاد کی تعداد ایک سو چھ ہے جن میں ستر لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں تیسری دعا کا جلوہ بھی ضرور دیکھوں گا۔ یعنی جنت میں داخل ہو جائوں گا۔ انہوں نے دو ہزار دو سو چھیاسی حدیثیں حضور ﷺسے روایت کی ہیں اور حدیث میں ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی عمر سو برس سے زائد ہوئی۔ بصرہ میں 91؁ ھ یا92؁ ھ یا92؁ ھ میں وفات پائی۔ (زرقانی جلد 3 ص 294 تا297)
(2)حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ ، یہ حضورﷺکے لیے وضو کرانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ یعنی پانی اور مسواک وغیرہ کا انتظام کرتے تھے۔ حضور ﷺنے ان کو جنت کی بشارت دی تھی۔ 63؁ھ میں وفات پائی۔)زرقانی جلد3 ص297)
(3)حضرت ایمن بن ام ایمن رضی اللہ تعالی عنہ حضور علیہ الصلو والسلام کی ایک چھوٹی مشک جس سے آپ استنجا اور وضو فرمایا کرتے تھے ہمیشہ آپ ہی کی تحویل میں رہا کرتی تھی۔ یہ جنگ حنین کے دن شہادت سے سرفراز ہوئے۔ (زرقانی جلد 3 ص297)
(4)حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ : یہ نعلین شریفین اور وضو کا برتن اور مسند و مسواک اپنے پاس رکھتے تھے۔ اور سفر و حضر میں ہمیشہ یہ خدمت انجام دیا کرتے تھے۔ ساٹھ برس سے زیادہ عمر پا کر 32؁ ھ یا 33؁ ھ میں بعض کا قول ہے کہ مدینہ میں اور بعض کے نزدیک کوفہ میں وصال فرمایا۔(زرقانی جلد 3 ص 297 تا298)
(5) حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالی عنہ : یہ حضورﷺ کی سواری کے خچر کی لگام تھامے رہتے تھے۔ قرآن مجید اور فرائض کے علوم میں بہت ہی ماہر تھے اور اعلی درجہ کے فصیح خطیب اور شعلہ بیان شاعر تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی حکومت کے دور میں ان کو مصر کا گورنر بنا دیا تھا۔ 58؁ ھ میں مصر کے اندر ہی ان کا وصال ہوا۔(زرقانی جلد 3 ص299)
(6) حضرت اسلع بن شریک رضی اللہ تعالی عنہ : یہ حضورِ اقدسﷺکے اونٹ پر کجاوہ باندھنے کی خدمت انجام دیاکرتے تھے۔
(7)حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ : یہ بہت ہی قدیم الاسلام صحابی ہیں۔ انتہائی تارک الدنیا اور عابد و زاہد تھے اور دربار نبوت کے بہت ہی خاص خادم تھے۔ ان کے فضائل میں چند حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں۔31؁ ھ میں مدینہ منورہ سے کچھ دور ’’ربذہ‘‘ نامی گائوں میں ان کا وصال ہوا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔(زرقانی جلد 3 ص 300)
(8) حضرت مہاجر مولی ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما :یہ ام المئومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے آزاد کردہ غلام تھے۔ شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ پانچ برس تک حضورِ اقدسﷺ کی خدمت کا بھی شرف حاصل کیا۔ بہت ہی بہادر مجاہد بھی تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں شامل تھے۔ کچھ دنوں تک مصر میں رہے۔ پھر ’’طحا ‘‘چلے گئے اور وہاں اپنی وفات تک مقیم رہے۔(زرقانی جلد 3ص301)
(9)حضرت حنین مولی عباس رضی اللہ تعالی عنہما: یہ پہلے حضورﷺ کے غلام تھے اور دن رات آپ کی خدمت کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺنے انہیں اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو عطا فرما دیا اور یہ حضرت عباس کے غلام ہوگئے۔ لیکن چند ہی دنوں کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو اس لیے آزاد کر دیا تاکہ یہ دن رات بارگاہِ نبوت میں حاضر رہیں اور خدمت کرتے رہیں۔(زرقانی جلد 3ص301)
(10)حضرت نعیم بن ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ:یہ بھی خادمانِ بارگاہِ رسالت کی فہرست خاص میں شمار کیے جاتے ہیں۔(زرقانی جلد3 ص 301)
(11) حضرت ابوالحمرا رضی اللہ تعالی عنہ:ان کا نام ہلال بن الحارث تھا۔ یہ حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام اور خادم خاص ہیں۔ وفات نبوی کے بعد یہ مدینہ سے ’’حمص ‘‘ چلے گئے تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔(زرقانی جلد3ص301)
(11)حضرت ابوالسمع رضی اللہ تعالی عنہ : حضورِ اقدسﷺ کے غلام تھے پھر آپ نے ان کو آزاد فرما دیا مگر یہ دربار نبوت سے جدا نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ خدمت گزاری میں مصروف رہے۔ حضورﷺ کو اکثر یہی غسل کرایا کرتے تھے۔ ان کا نام ’’اِیاد‘‘ تھا۔(زرقانی جلد3 ص 301)
اللہ پاک دربارِ رسالت ﷺ کے ان خاص متعلقین کی برکت سے ہمیں بھی صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین )