Web
Analytics
عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق اور جمہوریت کا روشن استعارہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق اور جمہوریت کا روشن استعارہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ

عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق اور جمہوریت کا روشن استعارہ ۔۔۔ افتخار بھٹہ

حریت فکر کی علمبردار بہادری اور عمل کا نمونہ عاصمہ جہانگیر رخصت ہوئیں اس کی زندگی انسانی حقوق جمہوریت قانون اور آئین کی بالا دستی کیلئے جدو جہد تمام ہوئی اس نے تین آمروں کا مردانہ وار مقابلہ کیا یہ محترم خاتون ملک کے بے نوا طبقوں کی آواز تھیں دستور کی بالادستی جمہوریت آزادی اظہار حقوق نسواں، ریاستی یا غیر ریاستی جبر و تشدد کا بہادری سے مقابلہ کیا وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہے اس کی باتیں اور یادیں ہمارے درمیان رہیں گی آج کل اس کی یاد میں مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے تعزیتی ریفرنسوں کا انعقاد کیا

جا رہا ہے جس میں اس کے کار ہائے نمایاں کو بیان کرتے ہوئے خود کو اس کی جدو جہد میں شریک ثابت کرنے کیلئے زور لگایا جا رہا ہے ۔روش خیال سیکو لر فہم کی حامل عاصمہ جہانگیر انسانوں کی مذاہب و عقیدہ و ذات پات اور رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کی قائل نہیں تھیں اس کے نزدیک دو طبقات تھے ایک استحصالی اور دوسرے مظلوم جو کہ سماج میں نسلی معاشرتی سماجی اور معاشی منافرتوں کا شکار اور دوسرے درجے کے شہری تھے عاصمہ جہانگیر سے میری پہلی ملاقات گجرات میں ہوئی جبکہ وہ بھٹہ مزدور راہنمائوں کو ملنے کیلئے گجرات تشریف لائیں اس کے بعد ایک انتخابی مہم کے سلسلہ میں گجرات ضلع کچہری میں اصغر علی گھرال کے ساتھ میں بات چیت کا موقع ملا میں اور میرے دوست اس کے جرات مندی کے ہمیشہ قائل رہے ہیں کیونکہ اس نے سب سے پہلے لاہور میں مغربی پاکستان میں فوجی آپریشن کیخلاف مظاہرہ کیا وہ ضیاء الحق کی آمریت کیخلاف مال روڈ پر جدو جہد میں مصروف رہیں 1971میں راقم الخروف اور افتخا ر الحق تراب 19سال کی عمر میں یحیٰ خان کے آپریشن کیخلاف بھوک ہڑتال کی وحشت اور نظریاتی جبریت کے عہد میں پروان چڑھتے آمروں کیخلاف جدو جہد کی تحریک میں محترمہ نصرت بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور عاصمہ جہانگیر کی شخصیات ہمیشہ نمایاں رہیں گی، عاصمہ جہانگیر نے ریاستی جبر ، آئین کی پائیمالی اور رجعت پسندوں کی نا انصافیوں کیخلاف بھرپور آواز اٹھائی اس کا نظریہ پسے ہوئے طبقات کی برابری کے ساتھ رجعت پسند اور باطل سوچ سے آزادی کا فلسفہ تھا وہ اتنا سچا اور طاقتور ہے کہ اکیلی عاصمہ جہانگیر کی آواز پوری ریاست کیلئے چیلنج بن جاتی ہے عاصمہ جہانگیر نے واہگہ بارڈر جا کر امن کی شمعیں روشن کیں دہلی میں خطاب کے دوران پاکستان

کے انسانی حقوق کے موقف کی واضح وضاحت کرتے ہوئے جمہوریت اور انسانی حقوق پر آواز اٹھائی جس سے ان کے تمام مخالفین کے بیانات اور الزامات کی نفی ہوتی ہے بھٹہ مزدوروں کیلئے جلسے کیے اور ان کے مقدمات کی پیروی اقلیتوں کے حقوق کی حمایت کرنے کے ساتھ ان کیخلاف عدالتوں میں مقدمات کی پیروری کی خواتین کے حقوق کی برابر کیلئے آواز اٹھائی 2005میں مشرف دور میں خواتین پر تشدد کیخلاف عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میرا تھن ریس کا انتظام کیا اس ریس کو روکنے کی کوشش

میں عاصمہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا2006-7میں وکلاء تحریک کے دوران ججوں کی رہائش گاہوں پر رات کو پیہرا دینے کا فیصلہ کیا وہ رات عاصمہ کی جدو جہد کے حوالہ سے منفرد تجربہ تھا جس میں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ کامریڈ فاروق طارق اور چند سماجی کارکن تھے انسانی حقوق کمیشن پاکستان میں نا قابل فراموش خدمات سر انجام دیں عاصمہ جہانگیر آئی اے رحمن اور ممتاز دانشور صحافی حسین نقی کی معاونت میں خود کو مضبوط تصور کرتی تھیں عاصمہ جہانگیر کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہ تھا اور نہ ہی اس نے کوئی پولیٹیکل فورم

قائم کیا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی سیاسی حلقہ انتخاب تھا مگر اس نے اپنے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اس کا ہر انتخاب میں ووٹ کیلئے ترجیح ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی رہی ہے اس کی جدو جہد بے باکی اورجرات کی گونج تمام انسانی حقوق جمہوریت قانون اور آئین کی بالا دستی پر یقین رکھنے والوں کیلئے راہنمائی کا ایک روشن ستارہ تھی اس کی آواز پختونخواہ ، بلوچستان اور سندھ میں سنی جاتی تھی اس نے بلوچ لیڈر اکبر بگٹی سے ملاقات کی اس نے نظریاتی اختلاف اور تنقید سے قطع نظر ہمیشہ ریاستی تشدد جو کہ ملکی یا عالمگیر سطح پر تھے ان کیخلا

ف آواز اٹھائی اور کسی قانونی مقدمہ کی پیروی کرتے وقت اس کو نظریات کے ترازو میں نہیں تولا بلکہ اپنی اس کمیٹمنٹ کے ساتھ منسلک رہی ۔عافیہ صدیقی کیلئے جب مذہبی طبقات محض مظاہرے کر رہے تھے تب عافیہ کیلئے پہلی پٹشن عاصمہ جہانگیر نے دائر کی اس نے دنیا کو بتایا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے نیز عافیہ کے بیٹے کیلئے مشرف کے راستے میں کھڑی ہوئی تھی جب ماورائے عدالت لا پتہ کیے جانے والوں کی خبر لینے کا کسی کو خوصلہ نہیں تھا تب ان کی بازیابی کیلئے عاصمہ جہانگیر نے تحریک چلائی جس کی وجہ سے مقتدرہ

ادارے نے مطلوبہ افراد کو کورٹ میں پیش کیا جب اسامہ بن لادن کی فیملی کو ایبٹ آبا د آپریشن کے بعد گرفتار کیا گیا تو عاصمہ نے آواز اٹھائی یہ قانون کی خلاف ورزی ہے یہ اس کیس کے حوالے سے پاکستان کی پہلی اور آخری آواز تھی جس کے بعد اس کے بارے میں کسی کو کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا ہے کشمیر میں جب برہان وانی کو قتل کر کے سری نگر میں کرفیو لگایا گیا تو اسلام آباد میں ہندوستان کیخلاف پہلا احتجاجی مظاہرہ عاصمہ جہانگیر نے کیا جبکہ امت مسلمہ کو خبر نہیں تھی صدر ٹرمپ نے یور و شلم کو اسرائیل کا دار

الحکومت قرار دے دیا تو اس وقت سب سے طاقتور ٹویٹ پاکستان میں ٹرمپ کیخلاف عاصمہ جہانگیر کی آئی تھی ،عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ طاقتور مقتدرہ افراد کی نا انصافیوں اور تشددکیخلاف آواز اٹھائی جس کے بدلے میں اس کو رجعت پسندوں کی طرف سے سماجی معاشرتی فرقہ وارانہ اور انسان دوستی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہ بات 90کی دہائی میں جنرل اسد بیگ، جنرل اسد دورانی اور جنرل حمید گل کے ساتھ مل کر بے نظیر بھٹو کی حکومتیں گرانے والے نواز شریف کو بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی کیونکہ تک میاں صاحب محب وطن

ہوا کرتے تھے اب جبکہ وہ احتسابی شکنجے سے دو چار ہیں اور انہوں نے طلال چوہدری کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کی درخواست کی تھی عاصمہ نے اوکاڑہ ملٹری فارم کے مزار عین کے مقدمہ کی بلا معاوضہ پیروری کی میرے دوست کامریڈ فاروق طارق کا عاصمہ جہانگیر کے ساتھ 2001سے رابطہ تھا اس نے یہ مقدمہ بلا معاوضہ لڑا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت میں اس نے بہادری کے ساتھ مظاہرین کے ساتھ غیر انسانی حقوق کی داستان کو بیان کیا اور ہائی سیکیورٹی جیل تبدیل کرنے کا کہا چیف جسٹس نے مہر

عبدالستار کی بیڑیاں کھولنے کا حکم دیا اور جیل میں عاصمہ سے ملاقات کرنے کی اجازت دی فاروق ستار نے عاصمہ جہانگیر اور عابد ساقی کے ساتھ عبدالستار سے جیل میں ملاقات کی عاصمہ کے والد غلام جیلانی ایڈووکیٹ ایک متحرک سیاسی شخصیت تھے وہ ایڈمرل احسن ،شاہ احمد نورانی، ولی خان اور اصغر خان جیسے عمائدین میں شامل تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی اور کہا کہ گولی چلنے کی صورت میں نتائج گھمبیر ہونگے چنانچہ مشرقی پاکستان الگ ہو گیا ان کے والد کا گھر ہمیشہ سیاسی سر گرمیوں کا

مرکز رہا تھا ذوالفقار علی بھٹو جب بھی لاہور آتے تھے تو میاںمحمود علی قصوری کے گھر ٹھہرتے تھے جبکہ محترمہ نصرت بھٹو ، بے نظیر بھٹو عاصمہ جہانگیر کے والد کی رہائش گاہ پر قیام کرتی تھیںاس طرح سیاست عاصمہ کے خون میں بچپن ہی سے رچی بسی تھی عاصمہ جہانگیر کو کئی بین الاقوامی ایوارڈ ملے اس کی جدو جہد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ھدیہ تبریک پیش کیا ہے حکومت نے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا وہ ایک ایسی لیڈر تھیں جس کا تعلق کسی سیاسی جماعت گروہ یا این جی او سے نہیں تھا اس کا حلقہ سیاست انسانی

حقوق سے محبت کرنے والے تھے وہ یقینا آج دکھی ہیں اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسانی حقوق اور جدو جہد کی بالا دستی کیلئے جدو جہد کو جاری رکھا جائے سماجی اور معاشی نا انصافیوں سماجی آزادیوں لبرل اور ڈیمور کریٹس سوچوں کی علمبردار تھیں عاصمہ اب نہیں رہی ہے وہ دن دور نہیں جب پاکستانیوں کو احساس ہوگا کہ انہوں نے کس قدر قیمتی چیز کو کھو دیا ہے۔