Web
Analytics
حرام کھانا! – Lahore TV Blogs
Home / خصوصی فیچرز / حرام کھانا!

حرام کھانا!

حضرت خواجہ محمد عبدالمالک صدیقیؒ بہت محتاط بزرگ تھے، ان کی زندگی میں بڑا تقویٰ تھا، اگر کوئی آدمی ان کو کوئی مشتبہ مال کی چیز کھانے کے لیے دیتا تو آپ قبول ہی نہیں کرتے تھے، چنانچہ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ حضرتؒ کے لیے مشتبہ مال سے بہت کھانا بنوایا، تقریباً پچیس تیس ڈشز بنوائیں، اس کے علاوہ دال بالکل حلال مال سے بنوائی، جب حضرت دستر خوان پر تشریف لائے تو فقط

دال کے ساتھ روٹی کھا کر اٹھ گئے، باقی کسی اور چیز کی طرف ہاتھ بھی نہ بڑھایا.حضرت مرشد عالمؒ کے بڑے صاحب زادے حضرت مولانا عبدالرحمن قاسمیؒ نے خود مجھے یہ واقعہ سنایا کہ حضرت مرشد عالمؒ تبلیغی سفر پر تھے، اس دوران حضرت خواجہ عبدالمالک صدیقیؒ اس علاقہ میں کسی پروگرام کے لیے تشریف لائے اور واپسی پر اچانک چوکوال تشریف لائے، جب حضرتؒ اچانک تشریف لائے تو میں خوش بھی ہوا اور حیران بھی ہوا، میں نے گھر میں والدہ صاحبہ کو آ کر بتایا کہ حضرتؒ تشریف لائے ہیں، ان کے لیے کھانا بنائیے، میں نے حضرتؒ کو بٹھایا، پانی پلایا اور جب دستر خوان لگایا تو حضرتؒ نے دستر خوان کی طرف ایک مرتبہ دیکھا پھر مجھے دیکھ کر فرمانے لگے: تمہارے گھر میں سور کیسے داخل ہوا؟ فرماتے ہیں کہ میں فوراً واپس والدہ صاحبہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: امی جان حضرت تو کھانے کی طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھا رہے، اور مجھے غصہ سے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ تمہارے گھر میں یہ سور کیسے داخل ہوگیا، امی جان سر پکڑ کر کہنے لگی، اوہو! غلطی میری ہے میرے ہم سایے والی عورت مدتوں سے مجھے کہہ رہی تھی کہ جب تمہارے پیر صاحب آئیں گے تو اس دفعہ کھانا میں بنا کے دوں گی اور مجھے خیال ہی نہ رہا کہ حضرت محتاط غذا کھاتے ہیں، میں نے پڑوسن کا حق سمجھ کر اسے ہاں کر دی تھی، لہٰذا یہ ہمارے گھر کا کھانا نہیں پڑوس کے گھر کا کھانا ہے، تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس کے خاوند کا مال تو حلال تھا

مگر اس نے اپنی رقم کو سود والے اکاؤنٹ میں رکھا تھا، لہٰذا وہ بھی حرام بن گیا۔