Web
Analytics
کامریڈ جام ساقی بھی رخصت ہوئے ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / کالم / کامریڈ جام ساقی بھی رخصت ہوئے ۔۔۔ افتخار بھٹہ

کامریڈ جام ساقی بھی رخصت ہوئے ۔۔۔ افتخار بھٹہ

کامریڈ ساقی نے تمام عمر مظلوموں لاچاروں اور پسے ہوئے طبقات کیلئے سیاسی و سماجی حقوق کیلئے جدو جہد کی اس کی زندگی بھرپور سنسی خیز ، با مقصد اور قابل فخر تھی،جام ساقی کے ساتھ راقم الحروف کو 70کی دہائی میں کراچی اور حیدر آباد میں ملاقات کرنے کا موقع ملا تو مجھے کمیونسٹ پارٹی کے نظریات اور جدو جہد کے بارے میں فکری آگاہی حاصل ہوئی اور میرے بائیں بازو کے نظریات میں مزید

پختگی آئی ، جام ساقی 31اکتوبر1944کو تھر کے گائوں جھنجھنی تحصیل چاچڑ تھرپارکر میں پیدا ہوئے پرائمری تعلیم 1953میں آبائی گائوں سے حاصل کی 1963چاچڑ سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا انٹر میڈیٹ کا امتحان سچل سر مست کالج حیدر آباد سے پاس کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سندھ جام شورو سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا اپنی سیاسی سر گرمیوں کا آغاز 1961میں سٹوڈنٹس یونین سے کیا اور بعد میں نیشنل سٹوڈنٹس کی بنیاد رکھی، جام ساقی بنادی طور پر کمیونسٹ تھا اس نے 1971میں نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کی بعد میں عرصہ دراز تک کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکرٹری رہا 90کی دہائی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کی اور آخری دم تک اس میں شامل رہا۔کامریڈ جام ساقی کے والد بھی ترقی پسند سوچ رکھتے تھے اپنے والد کے دوستوں سے روس کے انقلاب اور مارکسی نظریات کے بارے میں آگاہی ہوئی ،کالج میں داخلے کے ساتھ ہی طلباء کی عملی سیاست کا عملی حصہ بن گئے، ان سرگرمیوں کی وجہ سے والد سے تعلقات کشیدہ ہو گئے ،انتہائی شکل ھالات کے باوجود ایوب آمریت کیخلاف طلباء کو منظم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ،ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب آمریت سے علیحدگی کے بعد ترقی پسند سیاست کا نعرہ لگایا تو بھٹو نے حیدر آباد سٹو ڈنٹس فیڈریشن کو اپنے کنونشن میں مدعو کیا مگر ون یونٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کی تھی جس سے جام ساقی ناراض ہو گیا ،مگر اس کے باوجود میر رسول بخش تالپور کے اصرار پر بھٹو کو سٹوڈنٹس

فیڈریشن کے اجلاس میں مہمان خصوصی بنایا، تقریب کے بعد رسول بخش پالوجی کے گھر پر بھٹو نے جام ساقی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جام میں تمہارا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا واقعی بھٹو نے یہ احسان نہیں بھلایا اور اقتدار میں آتے ہی اس کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے 1966میں پہلی بار جیل میں گئے اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا 60کی دہائی میں پاکستان کی سیاسی تاریخ اور محنت کشوں کی جدو جہد کا روشن باب ہے ڈیمو کریٹک سٹوڈنٹس پر پابندی لگنے سے نیشنل

سٹو ڈنٹس کے پھیلائو اور مقبولیت میں اضافہ ہوا، طالبعلموں کی تحریک نے کمیونسٹ پارٹی اور مزدور کسان پارٹی کی سماجی بنیادوں کو مضبوط بنایا ۔کامریڈ جام ساقی کی جدو جہد سے کمیونسٹ پارٹی عوام میں متعارف ہوئی ، جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کے خلاف انتہائی ظالمانہ آپریشن کیا گیا جس میں بے شمار کارکن گرفتار ہوئے اور جیلوں کی صوبتیں برداشت کیں، کامریڈ نذیر عباسی کو شہید کر دیا گیا جنرل ضیاء الحق نے کمیونسٹ پارٹی کیخلاف مقدمہ قائم کیا جس

کا نام جام ساقی سازش کیس رکھا گیا ،اس مقدمہ میں پاکستان کے سیاسی قائدین بے نظیر بھٹو ، خان عبدالولی خان، غو ث بخش بزنجو ،صحافیوں اور وکلاء کو بطور صفائی کے گواہ پیش کیا گیا ۔جنہوں نے کمیونسٹ پارٹی پر ملک دشمنی کے الزامات کو رد کیا اور اس کو محب وطن قرار دیا۔جام ساقی نے کراچی اور فیصل آباد کی مزدور تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا، اور بد قسمتی سے یہ تحریک عین شباب کے دنوں میں نظریاتی دیوالیہ پن کا شکار ہو کر منتشر ہونا شروع ہو گئی تھی، چین

اور سووویت یونین کی خارجہ پالیسیوں کے ٹکرائو نے مائو نواز اور ماسکو نواز دھڑے بندی نے جنم لیا لیکن دونوں دھڑوں کی نظریاتی اساس ایک ہی تھی ،جو کہ اسٹالن کا رد انقلاب کا مراحلہ وار انقلاب کا نظریہ تھا ،مزدور کسان اور طالبعلم سوشلسٹ انقلاب کے نعرے بلند کر رہے تھے نظریاتی تقسیم واضح تھی عوام کی معاشی اور سماجی سدھار کیلئے ایک نصب العین موجود تھا مگر بد قسمتی سے موجودہ پس منظر میں نظریاتی سیاست کے خاتمہ کے بعد ہم جمہوریت جمہوریت کا کھیل کھیلنے

میں مصروف ہیں جس میں عوام کے معاشی اور سماجی حقوق و انصاف کیلئے کچھ بھی موجود نہیں ہے بلکہ سیاسی شخصیات اور اداروں کے درمیان ٹکرائو اور محاذ آرائی میں شدت آ رہی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے قبل بائیں بازو کی جماعتیں اور ٹریڈ یونین نے منظم طور پر نظریاتی سیاست کر رہی تھیں ، مگر ان جماعتوں کی سیاستی بساط پر اس تحریک کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو کے انقلابی نعرے غالب آ گئے 1977کے انتخابات میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ جاری

کر کے بھٹو نے اپنے منشور سے غداری کی جس سے اس کی عوامی حمایت میں کمی آئی اور اس کو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا کامریڈ ساقی نے ضیاء آمریت کیخلاف تحریک میں فعال کردار ادا کیا، 10دسمبر1978ء کو گرفتار کرنے کے بعد شاہی قلعہ میں 9دسمبر 1986ء تک قید تنہائی میں رکھا گیا ان آٹھ سالوں میں اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ہمارے بائیں بازو کے دوست 90 ء کی دہائی میں جام صادق کی سیاست پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں سوویت یونین کے انہدام کے بعد پاکستان میں نہیں

دنیا بھر میں محنت کشوں کی تحریکیں زوال پذیر ہو گئیں تو ترقی پسندوں نے این جی اوز اور تصوف میں پناہ لے ان خالات میں جام ساقی کے کردار صاف اور شفاف رہا اس سے کئی سیاسی غلطیاں ہوئیں مگر اس نے کبھی سرمایہ دارانہ نظام کی وکالت نہیں کی ۔اور نہ ہی کبھی نوجوانوں کو کمیونزم سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہمیشہ استحصالی نظام کیخلاف جدو جہد کرنے کا درس دیا جام ساقی نے حکمرانوں کی کئی پیش کشوں کو ٹھکرایا اس کو کئی اعلیٰ عہدوں اور ملازمتوں کی آفر

کی گئی ،ممتاز سندھی دانشور شیخ ایاز اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ وہ حیدر آباد میں کسی ادبی تقریب کی صدارت کر رہے تھے تو حیدر آباد کے ڈپٹی کمشنر کا پیغام ملا کہ وہ جام ساقی سے ملنا چاہتا ہے ، مگر اس نے کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے جام ساقی جس عہد میں فوت ہوئے ہیں یہ90ء کی دہائی کا رجعتی یا رد انقلاب جمود کا عہد نہیں ہے بلکہ گلوبلائزیشن کی عالمی سامریت کیخلاف نئی جدو جہد کے آغاز کا عہد ہے نیو ورلڈ آرڈر کی ناکامی کے بعد سرمایہ دار اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار

ہے نظریات کی عدم موجودگی میں ریاست سیاست دانوں رجعت پسندوں کی طرف سے نئے نظریاتی بیانیے سامنے آ رہے ہیں عرصہ دراز تک ریاست کے ہمنوا رہنے والے سیاسی اور مذہبی گروہ اپنی بیداری کا اظہار کر رہے ہیں ،جو نئی سماجی اور رجعتی رجحانات کا تعین کریں گے مختصر یہ ہے کہ 70برس سے قائم مقتدرہ طبقات کی اجارہ داری کو ان کے حامی ہی چیلنج کر رہے ہیں ،آج پاکستان میں تمام بائیاں بازو چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہے ، محض عوامی ورکر پارٹی ہی معاشی اور

سیاسی تبدیلیوں کیلئے جدو جہد کر رہی ہے تمام بائیں بازو کے راہنمائوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے تا کہ وہ عوامی معاشی حقوق کے حصول کیلئے سوشل ڈیمو کریسی کے ایجنڈے پر کام کر سکیں اس ضمن میں ہمارے کچھ ترقی پسند دوستوں امیتاز عالم ، فرخ سہیل گوندی، ڈاکٹر لال خان اور فاروق طارق کی باہمی اتحاد اور جدو جہد کیلئے کوششیں قابل تعریف ہیں بہر صورت پاکستان میں عوامی حقوق کیلئے قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنے والے کامریڈ جام ساقی کا کسی نے تو قرض اتارنا ہے۔