Web
Analytics
حافظ محمد سعید سب کے سانجھے ہیں ۔۔۔ نسیم الحق زاہدی – Lahore TV Blogs
Home / کالم / حافظ محمد سعید سب کے سانجھے ہیں ۔۔۔ نسیم الحق زاہدی

حافظ محمد سعید سب کے سانجھے ہیں ۔۔۔ نسیم الحق زاہدی

چند خوشامدی افراد نے محبت کا بھی پیمانہ مقرر کردیا ہوا ہے ،ان کے خیال کے مطابق جو اور جس طرح کی محبت وہ کر سکتے ہیں اس طرح کی محبت کوئی دوسرا شخص نہیں کرسکتا انکی اسی جہالت نے محبت میں تعصب،گروہ بندی اور حسد جیسی مہلک امراض کو جنم دیا ہے ان افراد نے مذہب کو بھی سیاست میں رنگ دیا ہے ۔تاریخ اس بات کی شائد ہے کہ بڑے بڑے سلاطین کی شکستوںکی وجہ انکے خوشامدی

بنے۔ ہمارے ہاںیہ رسم عام ہے ویسے توہم مسلمان ہیںایک اللہ اورآخری نبی رحمت اللعالمین حضرت محمدﷺ پر ایمان رکھتے ہیں مگر ہم نے اپنے اپنے طاغوت خود اپنے ہاتھوں بنا رکھے ہیں ،ہر شخص کامذہبی پیشوا،مولوی،ملاں الگ ہے ۔میرے احباب کو بھی مجھ سے یہی گلہ ہے کہ میں سر دیوار لکھتا ہوں پس دیوار کے قصے ۔حافظ محمد سعید سے والہانہ محبت بھی اللہ کی رضا کے لیے ہے اور اس محبت کی وجہ بھی صاف ہے کہ ’’ملاں اور مجاہد‘‘کی اذاں میں فرق ہوتا ہے اب یہاں پر سب سے بڑی تکلیف دہ جو بات ہے اور اکثر احباب کے طبع احساس پر یہ گراں گرزتی ہے کہ ہم امیر محترم سے محبت کیوں کرتے ہیں ؟جن افراد کی مذہبی،اخلاقی،سماجی وسیاسی بصیرت اور قائدہ صلاحیتوںنے ایک عہد کو حیران کن حد تک متاثر کیا ہے ان عظیم المرتبت افراد کی فہرست میں حافظ محمد سعید کا نام نمایاں ہے ۔اللہ رب العزت کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جو اس کا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسکا ہوجاتا اور اس کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا وقتی مشکلات ،مصائب نہ تو انکا کچھ بیگاڑ پاتے ہیں اور نہ ہی انکے عزم واستقلال میں لرزش پیدا کرپاتے ہیں۔امیر المجاہدین حافظ محمد سعید کویہ بلند وارفع مقام یونہی حاصل نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے انکی جہد مسلسل ،پرخاراور دشوار گزار راستوں پر سفر کی کلفت بھی شامل ہے انکی عالمگیر شہرت پر ایک طویل مدت سے بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان آتش چنار کی طرح حسد میں جلتے اور سلگتے رہے ہیں اور رہتے ہیں ۔ان کا سب سے بڑا

وصف انسانیت نوازی ،مظلوم ومجبور اور مقہور عوام کے دکھوں کا ادراک اور پھر ان کا مداوا کرنا ہے ۔اور یہی انکا سب سے بڑا قصور ہے کہ یہ شخص ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے ۔یہ آزادی کی بات کرتا ہے، غلامی کے کشکول توڑنے کی بات کرتا ہے ،اللہ کی رسی کو مضوطی سے پکڑنے کا درس دیتا ہے ۔یہ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی بات کرتا ہے اور اس کی آواز کفر کے ایوانوں میں شورش برپا کردیتی ہے ۔اس کی ہاتھ میں تلوار نہیں ،کوئی حکومتی عہدہ نہیں ،ملک سے باہر

اثاثے نہیں ،لوٹ کھسوٹ کا مال نہیں ،کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں ،ریاست کے اندر ریاست بنانے کی خواہش نہیں ،کسی قسم کی ملکی وغیر ملکی دہشت گردی میں ملوث نہیں ان سب حقائق کے باوجود وائٹ ہائوس اور بھارت سے ایک حکم نامہ جاری ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر پاکستان کادرد رکھنے والے محب وطن اور مظلوم کشمیریوںکے حقوق کی بات کرنے والااس شخص حافظ محمد سعید کو نظر بند کردیا جائے انکی تمام رفاہی تنظیموں کو بین کر دیا جائے ہماری سرکار گھٹنے ٹیک دیتی

ہے ۔کشمیر حافظ محمد سعید کا ذاتی مسئلہ تو نہیں یہ تو پاکستان کا مسئلہ ہے یہ مسئلہ تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا تھا جنہوں نے فرمایا تھا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا اور نامکمل ہے اورکشمیرکو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔پاکستان کے اندر ایک امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس آتا ہے سرعام دونہتے شہریوں کو انارکلی کے اندر گولیوں سے بھون ڈالتا ہے ،وائٹ ہائوس نے ایک حکم نامہ جاری ہوتا ہے اور اس قاتل کو باعزت طور پر امریکہ کے حوالے کردیا جاتا

ہے اور پھر وہ شخص پاکستان کے حساس اداروں،اور حکومت پاکستان کے حکمرانوں پر زہر اگلتا ہے تو اس پر ہمارے غلام ابن غلام حکمرانوں کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی کہ وہ امریکی سفیر کو طلب کرکے ان سے یہ پوچھیں کہ تم احسانوں کا بدلہ یوں دیتے ہو؟مگر ایسا ممکن نہیں،پاک سرزمین پرلاکھوں مسلمانوں کا سفاک قاتل مودی کے ناپاک وجود کو تمام نجاستوںسمیت خوش آمدید اوروالہانہ استقبال کرنے والوں نے کبھی مسئلہ کشمیر کی بات کی تھی ؟کہا تھا تم آئے روز ایل

او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے عام شہریوں اور ہمارے فوجی جوانوں کو شہید کر رہے تو عہد شکن ہو مگر افسوس جب ہم بت شکن تھے تو بت اور بت پرست ہمارے غلام تھے ہم نے تلواریں بیچ کر غلامی خرید لی ہے ہمارے ارباب اختیار کے جذبے ایمانی زنگ آلودہ ہوچکے ہیں ۔ورنہ دنیا کی تاریخ کا سب سے کم عمر مسلم جرنیل محمد بن قاسم ؒنے پہلی بار 712ء بمطابق86ھ میں براعظم پاک وہند پر ستر ہ سال کی عمر میں حملہ کیا۔اور چار ہزار مسلمانوں نے تمام دن روزہ سے رہ کر راجہ

داہرکے بیس ہزارہندوئوں کا مقابلہ کیا تھا تاریخ گواہ ہے کہ ہندوئوں نے پورے جوش اور پوری طاقت سے حملے کئے لیکن مسلمان سد سکندری کی طرح ڈٹے رہے ،صبر واستقلال سے نہ صرف ان حملوں کو روکا تھا بلکہ اس طرح قتل عام کیا تھا کہ تمام میدان کا رزار میں انکی لاشیں بچھا دیں تھیں۔راجہ داہر کے تینتیس ہزارلشکر نے آٹھ ہزار مسلمانوں پر حملہ کیا تھا اور انجام راجہ داہر ذلت آمیز موت مرا ،اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو فتح سے ہمکنار کیا ۔حق تو یہ بنتا تھا کہ ہمارے حکمران

محسن پاکستان حافظ محمد سعید کی قومی وبین الااقوامی فلاح انسانیت کی خدمات کے اعتراف پر انکو ایوارڈاور اعزازات سے نوازتے اور کشمیر موقف پر انکی تائیدو حمائت کرتے مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہی محسن کو ملکی بقاء اور سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے لاکھوں انسانوں کی جان بچانے والے کو دہشت گرد کہاجاتا ہے اور انکی نظر بندی کوملکی مفادات کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔بحیثیت پاکستانی میں پاکستان کا مالک ہونے ناطے یہ حق رکھتا ہوں کہ وہ ملکی مفادات

جو اس مجاہد کو پابند سلاسل کرکے حاصل ہوتے ہیں یا ہونے ہیں واضح کیے جائیں یا پھر یوں کہا جائے کہ انکی قید ذاتی مفادات،ترجیحات،امتیازات کے پجاریوںکی بقاء ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تمام کفر ایک ملت ہے اور مسلمان ایک ملت اور کفار کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے اور انکی پیروی مت کرو مگر یہ بات ہمارے ارباب اختیار کو سمجھ میں نہیں آرہی کہ حالات کے پیش نظر تم کفر کے ساتھ چلو ضرور مگر انکی اتباع اور پیروی مت کرو امام ابن

تیمیہؒفرماتے ہیں ’’جب تم کفار کو عروج پر دیکھو تو جان لو کہ انہوں نے ضرور مسلمانوں والی صفات اپنالیں ہیں اور جب مسلمانوں کو ذلت وپستی میں دیکھوتو جان لو کہ ضرور انہوں نے کفار کی بری خصلتوں کو اپنا لیا ہے ۔کفار نے جو مسلمانوں کی پہلی صفت اپنائی ہے وہ ہے اتحاد وہ ’’اسلام‘‘اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہوچکے ہیں اور مسلمان منتشر اس وقت تما کفر یکجا ہے اسرائیل کا وزیر اعظم بھارت جاتا ہے بھارت کا وزیر اعظم امریکہ جاتا ہے بتائیے ایسے میں کیا مسلمانوں کو

امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم یا اسرائیلی وزیر اعظم سے کوئی اچھائی توقع رکھنی چاہیے؟آخر میں صرف اتنا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں اور انسانوں کے رب ہیں رب اللعالمین ہیں نبی رحمتﷺ رحمت اللعالمین ہے اسی طرح حافظ محمد سعید تمام مسلمانوں کے سانجھے ہیں۔