Web
Analytics
شام کے مظلو م مسلمان ۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک – Lahore TV Blogs
Home / کالم / شام کے مظلو م مسلمان ۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک

شام کے مظلو م مسلمان ۔۔۔ عبدالجبار خان دریشک

پوری دنیا اس وقت عالمی جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے ، اسحلہ کی دوڑ اور اقتصادی اجارہ داری کی وجہ سے عالمی طاقتیں سرحدوں کے پار اپنی بھی سوچنے لگے ہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے یہ طاقتیں ہر ہربا استعمال کرتی ہیں جس سے ہر طرف شدت پسندی دہشت گردی اور جنگی صورت حال بنتی جارہی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تقریباً پوری دنیا میں سرحدیں تقسیم ہوئیں، ہر ملک و خطہ اپنی حدود و

قیود کے اندر رہنے لگا ، سرحدی تناظے آہستہ آہستہ ختم ہوئے۔ جنگوں کا دور ختم ہوا اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا جہاں پورا روز اور وسائل جنگوں پر خرچ ہوتے انہیں عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچے کیا جانے لگا، ایسے ہی بہت سارے ممالک ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے مزید بلندیوں پر چلے گئے۔ بے پناہ وسائل کی وجہ سے ان ممالک کو اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خیال آیا جس سے مسقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جانے لگا، بجائے کسی ملک پر جا کر قبضہ کرنے ان سے جنگ لڑنے کے ، دو ممالک کو آپس میں لڑوا دو، اور پھر دونوں پر حکومت کرو اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سرد جنگ کے ذریعہ شازس کروا کر ملک کے اندر بغاوت پیدا کروا دی جائے اور کومت کا تختہ الٹا کر اس کے حکمران کو اپنے ہاتھ میں رکھو اگر وہ بھی کسی موڑ پر آنکھیں پھیر لے تو اسے بھی چلتا کرو دنیا کی عالمی طاقتیں ایسے ہی کر رہی ہیں وہ اپنی جنگ اپنی سرحدوں پر لڑنے کی بجائے اپنے حمایت یافتہ ممالک میں جاکر لڑ رہے ہیں، اپنے بنائے گے تمام تر اسلحہ کے تجربات بھی ان ممالک اور ان کی بے قصور عوام کر رہے ہیں۔ جتنی بھی عالمی طاقتیں ہیں وہ ساری کی ساری عیسائی، یہودی ، اور بدھ مذہب کی پیروکار ہیں جو بظاہر تو ایک دوسرے کے بڑے حریف ہیں۔ ان کی بیان بازیوں سے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے بس ان کی جنگ ابھی شروع ہوئی لیکن یہ سب ان کا مکار پن ہے۔ ان کی اصل سازش عالم اسلام کے خلاف ہے آج ان مکاروں نے مسلمانوں کو ایسا

تقسیم کردیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ہاتھوں قتل ہورہا ہے ، یہ ساری سازش ان شیطانی طاقیتوں کی ہے جو اپنے مفاد کی خاطر کسی کا بھی گلہ دبا سکتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف باقی دنیا کے مسلمان ممالک اور ان کے حکمران تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ فلطسین کشمیر روہنگیا کے بعد شام کو ہی دیکھ لیں۔ کیسے چھوٹے چھوٹے بچوں، عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے لیکن مجال ہے کوئی اسلامی ممالک کا کوئی بھی لیڈر کچھ بولا ہو، سب کی

زبان تالے پڑے ہیں۔ کدھر ہے آو آئی سی، کدھر ہے 34 ممالک کا اتحاد ، کیا یہ تنظمیں اور اتحاد بس ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے لیا بنائے گئے ہیں۔ شام کے معاملے پر جہاں اسلامی ممالک کے سربراہان خاموش ہیں وہیں عالمی ادارے اور اقوام متحدہ کا فورم بھی بے بس نظر آتا ہے جو صرف بیان بازی سے کام چلا رہا ہے۔ حالانکہ شام میں 30 روز کے لیے جنگ بندی کی قرار داد بھی سیکورٹی کونسل سے منظور ہو جانے کے باوجود اس پر عمل نہ ہوسکا۔ اقوام متحدہ کی

قرار داد پاس ہوتی ہے لیکن اس کو کسی نے سنجیدہ لیا ہی نہیں ، دوسرا بشارالاسد کی ملشیا اور اس کے حمایت یافتہ ممالک کے لشکر مصوم شامی باشندوں پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کا خیال نہ رکھنے اور بات نہ ماننے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ عالمی طاقیوں کا ہو تو ہر طرح کے وسائل لگا کر اسے نمٹا جاتا ہے لیکن دوسری طرف چھوٹے ممالک خاص کر مسلمان ملکوں کے باشند مر رہیں تو مرتے رہیں۔ سلامتی کونسل کی قرار داد پر صرف چندگھنٹے

عمل کیا گیا ، جس کے فوری بعد شام کے مشرقی علاقے غوطہ پر شدید گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں بتایا جارہا ہے کہ نو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں دو سو سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ بمب بار جنگی جہازوں نے سکول ہسپتال پر گولوں کی برسات کر دی، فرانس میں ایک ڈاکٹروں کی عالمی تنظم نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک سکول اور چند ہسپتال کی تباہی کو دیکھایا گیا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف باغی ہیں تو دوسری طرف بشار

کی فوج ہے جس کو روس و دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے، بے بس شامی مسلمان ان لوگوں کے درمیان میں پھنس گئے جن کو دونوں فریق ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ان بچارے لوگوں تک کسی قسم کی امداد نہیں پہنچ رہی ہمارے یہ مسلمان بھائی ایک ایک قطرہ پانی اور ایک ایک نوالہ خوراک کو ترس رہے ہیں ان علاقوں میں میڈیکل کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔ شام کی عوام عالم اسلام سمیت پوری دنیا سے مدد کی اپیل کر رہی ہے دنیا بھر کے لوگ مذہب کی بنیاد

پر نہ سہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شامی مسلمانوں کی مدد کرے۔ شامی مسلمان سوشل میڈیا کے ذریعہ وہاں کے مظالم پوری دنیا دیکھا رہے ہیں 19 فروری سے 28 فروری تک ہونے والی گولہ باری کے بعد کی تباہی کو پوری دنیا نے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود شام کے لوگوں نے سوشل میڈیا ” میں زندہ ہوں ” کی ایک کمپین شروع کر رکھی ہے جس میں پوری دنیا سے اپیل کی جارہی ہے کہ ہماری مدد کی جائے، آج ہمارے شام کے مسلمان بھائی شدید مشکلات میں ہیں۔ ہمیں عالمی سطح پر آواز بلند کر کے ان کی مدد کرنی چاہیے اور مسلمانوں کو شیطانی طاقتوں کی سازش کو سمجھنا چاہیے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں .