Web
Analytics
پاکستان میں زیادہ اور کم ترین تنخواہ پر دستیاب ملازمتیں ۔۔۔ افتخار بھٹہ – Lahore TV Blogs
Home / بلاگز / پاکستان میں زیادہ اور کم ترین تنخواہ پر دستیاب ملازمتیں ۔۔۔ افتخار بھٹہ

پاکستان میں زیادہ اور کم ترین تنخواہ پر دستیاب ملازمتیں ۔۔۔ افتخار بھٹہ

ہمیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ مختلف ممالک میں سروے کرنے والی مالیاتی ایجنسوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے بقول چند قوتیں پاکستان کو معاشی طور پر پھلنے پھولنے میں رکاوٹ بن رہی ہیںانہیں یہ امید ہے اگر چند سالوں میں پاکستان کی معیشت کا شمار دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں ہوگا دوسری

طرف اخبارات میں حکومت کی طرف سے عوام کے ادا کردا ٹیکسوں کی رقوم سے خوش کن اور خوبصورت اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں جن میں کہیں پر سڑکوں، پلوں، فلائی اورز کا افتتاح کا بجلی کے کار خانوں کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہوتا ہے جبکہ سکولوں اور ہسپتالوں کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے بلکہ پرائیوٹ سیکٹر میں یہ شعبے سب سے زیادہ منافہ بخش کاربن چکے ہیں کچھ یہی صورتحال پاپو لسٹ حمایت کرنے والی جماعتوں کی ہے جہاں پر سرمایہ دار اور جاگیر دار عہدوں اور وزارتوں پر فائز ہیں اور پاور شیئرنگ کے ذریعے اپنے کاروبار اور دولت میں اضافہ کر رہے ہیں سرمائے کی پیدا کردہ لالچ اور ہوس کے اہم شعبے تعلیم اور صحت ہیں ملک میں صنعت کاری کا عمل زوال پذیر ہے برآمدات گر رہی ہیں سٹاک مارکیٹ اپنی انڈیکس کی تاریخی حدود پھلانگ چکا ہے مگر اس سے حاصل کر دہ سرمائے سے کوئی صنعت نہیں لگائی جا رہی ہے یاں کسی نئے یونٹ کے قائم کرنے کیلئے شیئرز فلوٹ کیے جا رہے ہیں صنعت ہی واحد ذریعہ ہوتا ہے جو کہ روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرتا ہے مگر بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے پیدا واری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی سستی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہیںاس لیے پاکستان کے صنعت کار حکومت سے پیکج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیںملک میں زیادہ تر سرمایہ کاری سروسز سیکٹر بینکنگ اور انشورنس کے شعبے میں

آئی ہے کچھ ملازمتوں کے مواقع انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی ہوئے ہیں اور اب ہم ساری معاشی ترقی کاہدف پاک چین راہداری کے تحت قائم ہونے والے منصوبوں پر انحصار کر رہے ہیں ایک طرف ملازمت کے مواقع بہت کم ہیں تو دوسری طرف نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں لاکھوں کی تعداد میں ڈگریاں جاری کر رہی ہیں اب تو خاصی تعداد پی ایچ ڈی والوں کی ہو چکی ہے اور ان میں سے بعض اداروں کی جعلی کردہ ڈگریوں کو مقامی اور عالمی

سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے جبکہ سائنس اور انجیئرنگ کی ڈگریاں substandard نصاب بھی عالمی گلوبل مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان میں درمیانہ طبقہ زیادہ سے زیادہ آبادی کا 20سے 25فیصد کا ہے یعنی بہت اندازے کے مطابق پانچ کروڑ سے زیادہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ پندرہ کروڑ عوام مزید غربت میں دھکیل دیئے گئے ہیں غربت اور ترقی مانپنے کے پیمانے اور طبقات کی درجہ بندی کے طریقے بھی جان بوجھ کر ناقص

اور دوھوکہ دہی پر مبنی ہوتے ہیں یہی صورتحال پاکستان کی معاشی ترقی اور غربت میں کمی کی رپورٹ شائع کروانے والوں کی ہے حالانکہ ترقی صرف قبضہ مافیا، بھتہ خوروں، رشوت خوروں اور بلیک کاروبار اور ٹیکس چوری کرنے والوں کی ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں کالے دھن کی مالیت مجموعی قومی پیداوار سے دوگنی ہو چکی ہے تجارتی اور کرنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بر قرار رکھنے کیلئے ہر ماہ چین سے تجارتی شرح

سود پر 700 سے 800 ملین کا قرضہ لیا جا رہا ہے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرزمیں نئی ملازمتوں کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے ہیں یہ تو اجارہ داروں کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ملازمین کو زیادہ یا کم تنخواہ دیں اور انہیں لیبر قوانین سے قطع نظر اپنی شرائط پر ملازمتیں فراہم کریں پاکستان میں سب سے زیادہ بہتر اور اعلیٰ سہولتیں اور زیادہ تحفظ کی وجہ سے پر کشش سرکاری ملازمتیں ہیں پنجاب حکومت نے حال ہی میں اعلیٰ پوسٹوں کی تنخواہوں میں کئی گناہ اضافہ کیا ہے جبکہ دیگر

ملازمین کیلئے یوٹیلٹی الائونس دینے کا اعلان کیا ہے اس وقت ملک میں سول اور فوجی ملازمین کی تعداد مجمومی نوکری کرنے والوں کا پانچ فیصد ہے جس میں 20سے60سال کی عمر کے افراد شامل ہیں ، 1.5فیصد کا تعلق فوجی اور پیرا ملٹری فورسز جبکہ3.5فیصد وفاقی صوبائی اور مقامی اداروں کی ملازمتوں میں شامل ہیں ، ان میں سے کئی کے اعداد و شمار کا ریکارڈ وفاق کے پاس موجود نہیں ہے ، کچھ کو تو ہر سال دیگر محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تبدیل کیا جاتا ہے جس سے

خزانے پر الگ بوجھ پڑتا ہے پبلک سیکٹر میں سب سے کم آمدنی والے کلرک ، ٹی بوائز چپڑاسی خاکروب، مالی، خدمتگار اور نرسز شامل ہیں جن کو نجی سیکٹر کی نسبت دوگنی تنخواہیں دی جاتی ہیں اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو پنشن علاج سیکورٹی قرضہ جات اور بہبود فنڈ کی سہولیات حاصل ہیں ، جبکہ دوسری طرف ملٹی نیشنل کمپنیوں اور نجی شعبوں میں ان سہولیات کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں ملازمت کا تحفظ حاصل ہوتا ہے مگر ان اداروں میں چند افراد

کو بہت زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں جو پرائیویٹ سیکرٹری کاروبار کی ترقی اور منافع میں اضافہ کیلئے اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہیں اور اُن کم ملازمین سے زیادہ کام لینے کی صلاحتوں کو سراہا جاتا ہے ، حکومتی اعلیٰ عہدوںپر کام کرنے والوں کی تنخواہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ ملازمین سے کہیں کم ہوتی ہیں پاکستان میں20-22گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ1لاکھ سے دو لاکھ دی جاتی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کےCEOپانچ لاکھ سے 15لاکھ ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں اس میں لوکل اور

غیر ملکی بینک انشور نس کمپنیاں آڈٹ فرمیں صارفین کی اشیاء تیار کرنے والی کمپنیاں کیمیکل نقل و حمل آئل خوراک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیںجہاں پر درمیانے درجے کے ملازمین کو پانچ سے چھ ڈیجٹ میں تنخواہ دیتی ہیں بینک ملازمین جس میں چپڑاسی اور خاکروب شامل ہیں اُن کو 12ہزار سے14ہزار ماہانہ دیا جاتا ہے جبکہ MBAاور ماسٹر کرنے والوں کو ابتدائی طور پر بینکوں میں14ہزار سے18ہزار ماہانہ پر ملازم رکھا جاتا ہے اور انہیں ابتدائی

طور پر نجی اداروں میں تھرڈ پارٹی کے ذریعے نوکری دی جاتی ہے 25سال سرکاری ملازمت کرنے والے ٹیچرز کی تنخواہ45ہزار سے80ہزار ہو سکتی ہے وہ پنشن کا حقدر بھی ہوتا ہے جبکہ نجی شعبوں میں ایسی مراعات کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے بینکنگ کے شعبہ میں نوجوان ہر وقت دوسرے بینکوں میں بہتر موقع کی تلاش میں رہتے ہیں یہی صورتحال نجی اداروں کے ملازمین کی ہے اگر ان اداروں میں پنشن دی بھی جاتی ہے تو بہت ہی قلیل ہوتی ہے

حکومتی تحویل میں بینکوں کے ملازمین کیلئے ریٹائرڈ منٹ کے بعد بہتر پنشن اور مراعات کے مواقع تھے مگر اب ان کی نج کاری کے بعد سروس رولز تبدیل ہونے کی وجہ سے ساری عمر نوکری کرنے کے بعد بھی انہیں ریٹائر منٹ پر بہت ہی کم مراعات یا مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں پاکستان میں چونکہ تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں نجی ادارے کوئی خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کرتے ہیں لہذا اس ضمن میں اصل صورتحال کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے مارکیٹ میں چھوٹے اور

درمیانے درجے کے ملازمین کو بہت کم تنخواہیں دی جاتی ہیں جبکہ ان اداروں کے اعلیٰ اور چھوٹے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کی وسیع خلیج موجود ہے ۔کنٹریکٹ سسٹم نے یونین کی سودا کاری کو صلاحیت کو ختم کر دیا ہے ہزاروں اداروں میں عارضی اور وقتی ملازمتیں دی جاتی ہیں اور جب چاہے لیبر کو فارغ کر دیا جاتا ہے کئی جگہوں پر بغیر تقریری اور معاہدے کے روازانہ، ہفتہ وار ، ماہانہ اجرتوں کی ادائیگی پر نوکری دی جاتی ہے۔جس کی وجہ سے عارضی ملازمین

کو سوشل سیکورٹی اور پنشن کے حقوق نہیں حاصل ہوتے ہیں فیکٹریز ، کمپنیز ، گارمنٹس انڈسٹری میں ملازمین کو 13ہزار سے کم تنخواہ دی جاتی ہے یہی صورتحال شاپنگ مال اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والوں کی ہے ، جنہیں بارہ گھنٹے کے کام کے عوض 6ہزار سے10ہزار تک ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اس کے بر عکس ذاتی طور پر کاروبار کرنے والے ، نیم تربیت یافتہ افراد، مکینک پلمبرز الیکٹریشن اور مستری کچھ بہتر کما لیتے ہیں ان شعبوں میں

دس سال کا تجربہ رکھنے والے پچاس ہزار ماہانہ تک کما رہے ہیں صحت Arichitecقانون ڈائزنرز قانون دادن اور کنسلٹنٹ ملازمت نہ کرنے کے باوجود پرائیویٹ سیکٹرزمیں بہتر کما رہے ہیں ۔اس تمام صورتحا ل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نجی شعبوں میں کس طرح سے عام ملازمین کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نئی نسل کا استحصال کیا جا رہا ہے اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق عام لوگوں کی زندگی پر سب سے زیادہ منفی اثر ہائوسنگ شعبہ پر ڈالا ہے ، جس میں سب سے

زیادہ چونیتس فیصد اضافہ ہوا ہے بعض لوگ اپنی تنخواہ کا نصف کرایہ کی مد میںدیتے ہیں تعلیم کے شعبہ کے اخراجات کے شرح 12.73فیصد ہے ملک میں نجی اداروں کی جانب سے فیسوں میں اپنی مرضی سے اضافہ کر دیا جاتا ہے، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ دال چینی اور دیگر اشیائے خوراک کے نرخوں میں اضافہ ہوا ہے ایسی صورتحال میں محدود یا اضافی آمدنی نہ رکھنے والے ملازمین کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ریاست نیو

لبرل معیشت کی منڈی میں ان کو ریلیف دینے کیلئے کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت سوشل ڈیمو کریسی کے تناظر میں کوئی منشور یا روڈ میپ رکھتی ہے۔موجودہ حکومت کی اقتصادی بحالی کے حوالے سے کارکردگی کا کچا چٹھہ حال ہی میں آئی ایم ایف کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ نے کھول دیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر درآمدات کی ضروریات کیلئے منفی ہو چکے ہیں دوسری طرف ہم سی پیک کے حوالے سے

بہت شور و غل سنتے رہے ہیں مگر حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اس منصوبہ میں منافع کا حصہ10%سے بھی کم ہے جبکہ بھاری قرضوں کی ادائیگی پاکستانی قوم نے ادا کرنی ہے نواز شریف حکومت اپنے دور اقتدار کے دوران عوام کی فلاح کیلئے کیا کچھ کر سکی ہے وہ محض صرف قرضہ جاتی بوجھ لادنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے بد قسمتی سے دوسری پارٹیاں بھی چونکہ سرمایہ دارانہ مارکیٹ اکانومی سے متعلق پالیسیز رکھتی ہیں ان سے بھی عوام کے بنیادی معاشی اور سماجی حقوق کے حل کے بارے میں کوئی امید نہیں ہے۔
۔۔۔۔